منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

دنیا بھر میں کپاس کی فصل میں نو فیصد اور طلب میں دو فیصد تک کمی ہوئی:بی بی سی

datetime 27  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)موسمیاتی تبدیلی کہہ لیں، ایل نینیو کو الزام دے لیں، زرعی انتظامی مسائل کے سر منڈھ دیں مگر نچوڑ یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس برس کپاس کی فصل میں نو فیصد اور طلب میں کم ازکم دو فیصد تک کمی ہوئی ہے۔گذشتہ برس کی ایک سو چھ ملین گانٹھوں کے مقابلے میں اس سال کی عالمی پیداوار سو ملین کے آس پاس رہنے کا خدشہ ہے۔ یہ عالمی پیداواری خسارہ سالِ 2008 کے بعد سب سے زیادہ کہا جا رہا ہے۔پاکستان کہ جس کی معاشی ریڑھ کی ہڈی زراعت سے بنی ہے اور سب سے بڑی درآمد ہی کپاس اور اس سے بننے والی نیم تیار و تیار اشیا ہیں۔ دنیا میں جو دس ممالک کپاس کی پیداوار میں اس وقت سرِ فہرست ہیں ان میں چین، بھارت اور امریکہ کے بعد چوتھا نمبر پاکستان کا ہے۔ ( بعد ازاں برازیل، ازبکستان، آسٹریلیا، ترکی، ترکمانستان اور یونان ہیں۔یہ درجہ بندی سال بہ سال بدلتی رہتی ہے )۔چین اور بھارت کپاس کی نصف عالمی پیداوار فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ برس کی فصل خاصی بہتر رہی اور 14.6 ملین گانٹھیں حاصل ہوئیں ( ایک گانٹھ میں 340 پونڈ کپاس ہوتی ہے )۔اس سال کی فصل کا ٹارگٹ 15 ملین گانٹھوں کا تھا۔ مگر بے وقت بارشوں اور کہرے سمیت متعدد قدرتی و غیر قدرتی وجوہات کے سبب کاٹن اسیسمنٹ کمیٹی کو تین بار پیداواری ہدف پر نظرِ ثانی کرنا پڑ گئی اور اب اندازہ ہے کہ بہت ہی تیر مارا تو 9.6 ملین گانٹھیں حاصل ہو جائیں گی۔یعنی گذشتہ فصل سے بھی پانچ ملین کم۔ سنہ 1998 کے بعد پاکستانی کپاس کی پیداوار میں یہ سب سے بڑی کمی بتائی جا رہی ہے۔مگر بات صرف کپاس کی پیداوار میں 33 تا 35 فیصد کمی کی نہیں۔ پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی مانگ پورا کرنے کے لیے چار ملین گانٹھیں درآمد کرنا ہوں گی۔ اگر پانچ ملین کی پیداواری کمی اور چار ملین کی اضافی درآمد کو جوڑا جائے تو اس نو ملین گانٹھ خسارے کی 65 تا 67 سینٹ فی پونڈ کے حساب سے قیمت لگ بھگ دو بلین ڈالر بیٹھتی ہے۔اس بار پاکستان نے قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف پانچ فیصد سالانہ مقرر کیا ہے۔مگر کپاس کی پیداوار میں ایک تہائی سے زیادہ کمی اور اس کمی کے لوڈ شیڈنگ سے جوجنے والی ٹیکسٹائیل انڈسٹری پر مزید منفی اثرات کے سبب کیا پانچ فیصد گروتھ کا ٹارگٹ حاصل ہو پائے گا؟صرف ایک امید ہے کہ جادوگر اسحاق ڈار اعداد و شمار کو ڈبے میں ڈال کر زور زور سے ہلانے کے بعد شماریاتی خرگوش نکالیں اور معیشت کپاس کے سنگین پیداواری بحران کے باوجود پہلے سے زیادہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل نظر آئے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…