پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ملکہ میکسیما کی زیرصدارت ڈیجیٹل مالی شمولیت پرمباحثہ

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)نیدرلینڈز کی ملکہ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی مشیر برائے شمولیتی مالیات برائے ترقی (یواین ایس جی ایس اے) میکسیما نے اسلام آباد میں ’ڈیجیٹل مالی خدمات کا مستقبل‘ کے موضوع پر گول میز مباحثے کی صدارت کی۔ملکہ میکسیما مالی شمولیت کی ترویج کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر ہیں۔گول میز کا اہتمام بینک دولت پاکستان نے کیا تھا۔ ملکہ میکسیما نے کہا کہ پاکستان کا ضوابطی ڈھانچہ بہترین ہے جو مالی شمولیت کو ترقی کی نئی سطح تک لے جانے کے لیے مضبوط بنیادیں رکھتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انڈسٹری کو مل جل کرآئندہ 3سے 4سہ ماہیوں میں کم از کم کچھ بڑی رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں تاکہ ڈیجیٹل مالی خدمات کے بھرپور امکانات حقیقت بن سکیں۔ ملکہ میکسیما نے جو تجاویز دیں ان میںاضافی نقد کے استعمال کی حوصلہ شکنی، خواتین کے لیے اسمارٹ سیل فون کی دستیابی اور برانچ لیس بینکاری کی لاگت کو کم کرنا شامل ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا نے اپنے خیرمقدمی کلمات میںکہا کہ ڈیجیٹل مالی خدمات روایتی بزنس ماڈلز کی رکاوٹوں پر قابو پانے کے امکانات رکھتی ہیں، برانچ لیس بینکاری ا?سان بھی ہے اور محروم طبقات کے لیے بہت سستی بھی کیونکہ اس میں لاگت کا موثر استعمال ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سازگار ضوابطی ماحول سے ملک میں ڈیجیٹل مالی خدمات کی ترویج میں مدد ملی ہے، انڈسٹری کا انفرااسٹرکچر اہم متبادل ڈلیوری چینل کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے ملک کے گوشے گوشے میں جگہ بنا لی ہے۔گول میز کانفرنس کے شرکا نے اہم مسائل پر غورو خوض کیا اور لاگت میں کمی کی ضرورت، ا?گہی کے ذریعے ڈیجیٹل مالی خدمات پر عوامی اعتماد و یقین میں اضافے اور عالمی طور طریقوں سے سیکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ بحث کو سمیٹتے ہوئے ڈپٹی گورنر سعید احمد نے انڈسٹری کے فریقوں پر زور دیا کہ وہ رکاوٹیں دور کرنے کے مربوط طریقے وضع کرنے کے لیے ایک دوسرے سے اشتراک بڑھائیں۔انہوں نے ایم والٹس اکاو¿نٹس اور دیگر اہم شعبوں کو فروغ دینے میں ایس ای سی پی اور پی ٹی اے جیسے دیگر اہم فریقوں کے کردار پر زور دیا جو مالی شمولیت کے فروغ اور معاشرے کے غریب طبقات کو شمولیتی اور پائیدار بنیادوں پر خدمات کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔گول میز کانفرنس میں پی ٹی اے کے چیئرمین سید اسماعیل شاہ، نیدر لینڈز کے سفیر، ضوابطی اداروں، نادرا، ٹیل کوز، مالی اداروں، ٹیکنالوجی سروسز پروائیڈرز، امدادی اور کثیر فریقی ایجنسیوں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…