جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی پر تشویش؛ اپٹما نے حکومتی اقدامات کو معمولی قراردیدیا

datetime 24  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسویس ایشن(اپٹما) کے مرکزی چیئرمین طارق سعود نے دسمبر 2015کے دوران ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں شدید کمی پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صورتحال کی بہتری کے لیے اپٹما کی تجاویز پر غور نہیں کررہی ہے، اپٹما کی جانب سے گزشتہ 6 ماہ سے حکومت کو خبردار کیا جا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، حکومت نے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے بہت ہی معمولی پیشکش کی اور وہ بھی اتنی تاخیر سے کی گئی کہ انڈسٹری کواس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوسکا۔انھوں نے کہاکہ نہ صرف دسمبر میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں کمی ہوئی بلکہ جولائی سے دسمبر تک کے عرصے میں بھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں منفی رحجان دیکھا جا رہا ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ پورے ٹیکسٹائل سیکٹر میں یارن سے ویلیوایڈڈ مصنوعات تک سب کی ایکسپورٹ میں کمی ہوئی ہے اور یہ کمی نہ صرف مالیت بلکہ مقدار میں بھی ہورہی ہے، کلاتھنگ کی ایکسپورٹ میں گزشتہ 24ماہ سے کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔طارق سعود نے کہاکہ اپٹماکی جانب سے صورتحال کی مکمل مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور سرکاری میٹنگ میں پریزنٹیشن کے ذریعے اعلیٰ حکومتی آفیشلز کی توجہ بھی ان مسائل کی جانب دلائی جا رہی ہے جن کی وجہ سے ٹیکسٹائل برآمدت کم ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 11ستمبر 2015کو انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں پیکیج کا اعلان کردیاتھا لیکن بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس پیکیج کی بحالی میں تاخیرکردی گئی، یارن سے لے کر ویلیوایڈڈ مصنوعات تک ٹیکسٹائل کی تمام کیٹیگریز کی برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت مزید بڑھنے کے خدشات ہیں جن سے انڈسٹری مزید دباو¿ کا شکارہوجائے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے اپٹما کی 6 نکاتی تجاویز پر فوراً عملدرا?مد کرے، ان 6نکات میںوزیراعظم کی جانب سے فی یونٹ 3روپے کے سرچارج کو ختم کرکے بجلی کے ٹیرف کم اور گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی ا?ئی ڈی سی) ختم، لوکل ٹیکسز اور لیویز میں 5 فیصد تک ڈرابیک، ایکسپورٹ ری فناس سہولت، واجب الادا ری فنڈز کی ادائیگی، فیبرک اور یارن پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ روئی کی درآمد پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنے اضافی اخراجات کو عالمی خریداروں پر منتقل نہیں کرسکتی اس لیے اس انڈسٹری کو پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے 9 روپے فی کلو واٹ کے ٹیرف پر بجلی فراہم کی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے حکومت اپٹما کی جانب سے انڈسٹری کی بحالی کے لیے دی گئی تجاویز کو فوراً قبول کرتے ہوئے فوری طور پر ان پر عملدرآمد کا حکم جاری کرے گی



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…