پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی پر تشویش؛ اپٹما نے حکومتی اقدامات کو معمولی قراردیدیا

datetime 24  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسویس ایشن(اپٹما) کے مرکزی چیئرمین طارق سعود نے دسمبر 2015کے دوران ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں شدید کمی پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صورتحال کی بہتری کے لیے اپٹما کی تجاویز پر غور نہیں کررہی ہے، اپٹما کی جانب سے گزشتہ 6 ماہ سے حکومت کو خبردار کیا جا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، حکومت نے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے بہت ہی معمولی پیشکش کی اور وہ بھی اتنی تاخیر سے کی گئی کہ انڈسٹری کواس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوسکا۔انھوں نے کہاکہ نہ صرف دسمبر میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں کمی ہوئی بلکہ جولائی سے دسمبر تک کے عرصے میں بھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں منفی رحجان دیکھا جا رہا ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ پورے ٹیکسٹائل سیکٹر میں یارن سے ویلیوایڈڈ مصنوعات تک سب کی ایکسپورٹ میں کمی ہوئی ہے اور یہ کمی نہ صرف مالیت بلکہ مقدار میں بھی ہورہی ہے، کلاتھنگ کی ایکسپورٹ میں گزشتہ 24ماہ سے کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔طارق سعود نے کہاکہ اپٹماکی جانب سے صورتحال کی مکمل مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور سرکاری میٹنگ میں پریزنٹیشن کے ذریعے اعلیٰ حکومتی آفیشلز کی توجہ بھی ان مسائل کی جانب دلائی جا رہی ہے جن کی وجہ سے ٹیکسٹائل برآمدت کم ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 11ستمبر 2015کو انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں پیکیج کا اعلان کردیاتھا لیکن بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس پیکیج کی بحالی میں تاخیرکردی گئی، یارن سے لے کر ویلیوایڈڈ مصنوعات تک ٹیکسٹائل کی تمام کیٹیگریز کی برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت مزید بڑھنے کے خدشات ہیں جن سے انڈسٹری مزید دباو¿ کا شکارہوجائے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے اپٹما کی 6 نکاتی تجاویز پر فوراً عملدرا?مد کرے، ان 6نکات میںوزیراعظم کی جانب سے فی یونٹ 3روپے کے سرچارج کو ختم کرکے بجلی کے ٹیرف کم اور گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی ا?ئی ڈی سی) ختم، لوکل ٹیکسز اور لیویز میں 5 فیصد تک ڈرابیک، ایکسپورٹ ری فناس سہولت، واجب الادا ری فنڈز کی ادائیگی، فیبرک اور یارن پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ روئی کی درآمد پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنے اضافی اخراجات کو عالمی خریداروں پر منتقل نہیں کرسکتی اس لیے اس انڈسٹری کو پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے 9 روپے فی کلو واٹ کے ٹیرف پر بجلی فراہم کی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے حکومت اپٹما کی جانب سے انڈسٹری کی بحالی کے لیے دی گئی تجاویز کو فوراً قبول کرتے ہوئے فوری طور پر ان پر عملدرآمد کا حکم جاری کرے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…