جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

خام تیل کی گرتی عالمی قیمتوں کا فائدہ عوام کو منتقل نہ ہوسکا

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عالمی سطح پر نہ صرف تیل سستا ہوا بلکہ روز مرہ استعمال کی اشیا بھی سستی ہوئیں مگر پاکستان کے عوام کو تیل کی گرتی ہوئی عالمی قیمتوں کے حساب سے نہ تو فائدہ مل سکا اور نہ ہی روز مرہ استعمال کی اشیا کو مہنگا ہونے سے روکا جاسکا، پاکستانی عوام کو نئے سال میں بھی مہنگائی کی تیز لہروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیوز ایجنسی کو ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق عالمی سطح پر آٹے کی قیمتیں بھی کم ہوئیں مگر پاکستان میں یہ معجزہ نہ ہوسکا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عالمی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی پرائس ریگولیٹری اتھارٹی نے صارفین کا تحفظ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اسی طرح چکی آٹا اور میدے کی قیمتیں بھی بڑھیں اور دالوں کی مختلف اقسام کو بھی مہنگا کردیاگیاجس میں عمومی دال کی قیمت 75 روپے فی کلو سے بڑھ کر130روپے ہوچکی ہے، کابلی اور کالے چنے کی قیمت بھی بڑھائی جاچکی ہے۔جنوری2015 میں چینی کی فی کلو قیمت 50روپے تھی حالانکہ عالمی منڈی میں یہی قیمت32سے33سینٹ دیکھی گئی، چائے کی پتی کی بڑی کمپنیوں نے کینیا کی چائے کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ٹپال مکسچر اور ٹپال دانے دار کی قیمت750سے بڑھا کر 850 روپے فی کلو تک پہنچی، اسی طرح بڑے گوشت کی قیمت 380 روپے فی کلو سے بڑھ کر400روپے فی کلو تک پہنچ گئی اور چھوٹا گوشت680روپے سے بڑھ کر700روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔پچھلے ایک سال کے دوران عالمی سطح پر خشک دودھ کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر کم ہوئیں مگر پاکستان کے عوام کیلیے قیمتیں نہ کم ہوسکیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں گیارہ سال کی کم ترین سطح پر آنے کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیاگیا،بھارت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام کو دیا گیا ہے۔ مگر پاکستان میں حکومت نے ٹیکس کی بھرمار کے ذریعے پاکستان کے عوام کو اس فائدے سے دور رکھا اور ہر بار ایک نیا ٹیکس لگا کر وزیرخزانہ کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ عوام کو یہ کڑوی گولی برداشت کرنا پڑے گی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…