پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

خام تیل کی گرتی عالمی قیمتوں کا فائدہ عوام کو منتقل نہ ہوسکا

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عالمی سطح پر نہ صرف تیل سستا ہوا بلکہ روز مرہ استعمال کی اشیا بھی سستی ہوئیں مگر پاکستان کے عوام کو تیل کی گرتی ہوئی عالمی قیمتوں کے حساب سے نہ تو فائدہ مل سکا اور نہ ہی روز مرہ استعمال کی اشیا کو مہنگا ہونے سے روکا جاسکا، پاکستانی عوام کو نئے سال میں بھی مہنگائی کی تیز لہروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیوز ایجنسی کو ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق عالمی سطح پر آٹے کی قیمتیں بھی کم ہوئیں مگر پاکستان میں یہ معجزہ نہ ہوسکا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عالمی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی پرائس ریگولیٹری اتھارٹی نے صارفین کا تحفظ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اسی طرح چکی آٹا اور میدے کی قیمتیں بھی بڑھیں اور دالوں کی مختلف اقسام کو بھی مہنگا کردیاگیاجس میں عمومی دال کی قیمت 75 روپے فی کلو سے بڑھ کر130روپے ہوچکی ہے، کابلی اور کالے چنے کی قیمت بھی بڑھائی جاچکی ہے۔جنوری2015 میں چینی کی فی کلو قیمت 50روپے تھی حالانکہ عالمی منڈی میں یہی قیمت32سے33سینٹ دیکھی گئی، چائے کی پتی کی بڑی کمپنیوں نے کینیا کی چائے کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ٹپال مکسچر اور ٹپال دانے دار کی قیمت750سے بڑھا کر 850 روپے فی کلو تک پہنچی، اسی طرح بڑے گوشت کی قیمت 380 روپے فی کلو سے بڑھ کر400روپے فی کلو تک پہنچ گئی اور چھوٹا گوشت680روپے سے بڑھ کر700روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔پچھلے ایک سال کے دوران عالمی سطح پر خشک دودھ کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر کم ہوئیں مگر پاکستان کے عوام کیلیے قیمتیں نہ کم ہوسکیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں گیارہ سال کی کم ترین سطح پر آنے کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیاگیا،بھارت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام کو دیا گیا ہے۔ مگر پاکستان میں حکومت نے ٹیکس کی بھرمار کے ذریعے پاکستان کے عوام کو اس فائدے سے دور رکھا اور ہر بار ایک نیا ٹیکس لگا کر وزیرخزانہ کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ عوام کو یہ کڑوی گولی برداشت کرنا پڑے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…