جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایف بی آرکی ناکامی کا اعتراف ہے،ڈاکٹر مرتضی مغل

datetime 3  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایف بی آر کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے ٹیکس چوروں اور ملی بھگت کرنے والی بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ٹیکس چوروں کو کالا دھن سفید کرنے میں مدد دینے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔حکومت کے فیصلہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ پھیلانے، مراعات یافتہ شعبوں کے خلاف کاروائی، ناجائز اثاثے ضبط کرنے کیلئے مناسب قانون سازی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود اربوں ڈالر کی واپسی کے سلسلہ میں اقدامات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جس سے ملک ہمیشہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کا محتاج رہے گا۔ایسے فیصلوں سے اصلاحات جنکی رفتار پہلے ہی سست ہے دم توڑ دیتی ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس سکیم سے نہ تو حکومت کی آمدنی بڑھے گی، نہ ٹیکس نیٹ کو توسیع ملے گی اور نہ ہی بجٹ خسارہ کم ہو گا۔اس طرح کی سکیموں سے مسائل کو وقتی طور پر حل کرتے ہیں جبکہ معاشرے میں کرپشن کو تقویت ملتی ہے ۔ ہمیں ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جوصنعت و تجارت کو نقصان پہنچائے بغیر حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے علاوہ دولت کی منصفانہ تقسیم ، فوائد کی عوام کو منتقلی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔ بعض شعبوں پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور دیگر کو بے جا مراعات دینے اور ایماندار ٹیکس گزاروں کی جائز شکایات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ معیشت کے سارے نظام کو زمین بوس کر رہا ہے۔ جب تک ارباب اختیار ٹیکس کے منصفانہ نظام کے لئے اقدامات نہیں کریں گے ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے لئے معافی کی سکیمیں بھگت کا نتیجہ ہیں۔ اسکے علاوہ زیر زمین معیشت اورقیاس آرائی پر مبنی تجارت کی سرپرستی، کثیر القومی کمپنیوں کے ہتھکنڈوں کو نظر انداز کرنااور حکومت کا بڑھتا حجم بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ٹیکس کے معاملات سے دور رکھنا، نا اہل غیر ملک ماہرین پر دارو مدار، غریبوں پر ٹیکس میں اضافہ جبکہ اشرافیہ پر کمی کی وجہ سے ملک بے روزگاری، بد امنی ،سرمائے اور اثاثہ جات کے فرار، سرمایہ کاری میں بھی کمی اور بین الاقوامی عدم اعتماد کا سبب ہے۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…