بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایف بی آرکی ناکامی کا اعتراف ہے،ڈاکٹر مرتضی مغل

datetime 3  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایف بی آر کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے ٹیکس چوروں اور ملی بھگت کرنے والی بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ٹیکس چوروں کو کالا دھن سفید کرنے میں مدد دینے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔حکومت کے فیصلہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ پھیلانے، مراعات یافتہ شعبوں کے خلاف کاروائی، ناجائز اثاثے ضبط کرنے کیلئے مناسب قانون سازی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود اربوں ڈالر کی واپسی کے سلسلہ میں اقدامات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جس سے ملک ہمیشہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کا محتاج رہے گا۔ایسے فیصلوں سے اصلاحات جنکی رفتار پہلے ہی سست ہے دم توڑ دیتی ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس سکیم سے نہ تو حکومت کی آمدنی بڑھے گی، نہ ٹیکس نیٹ کو توسیع ملے گی اور نہ ہی بجٹ خسارہ کم ہو گا۔اس طرح کی سکیموں سے مسائل کو وقتی طور پر حل کرتے ہیں جبکہ معاشرے میں کرپشن کو تقویت ملتی ہے ۔ ہمیں ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جوصنعت و تجارت کو نقصان پہنچائے بغیر حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے علاوہ دولت کی منصفانہ تقسیم ، فوائد کی عوام کو منتقلی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔ بعض شعبوں پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور دیگر کو بے جا مراعات دینے اور ایماندار ٹیکس گزاروں کی جائز شکایات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ معیشت کے سارے نظام کو زمین بوس کر رہا ہے۔ جب تک ارباب اختیار ٹیکس کے منصفانہ نظام کے لئے اقدامات نہیں کریں گے ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے لئے معافی کی سکیمیں بھگت کا نتیجہ ہیں۔ اسکے علاوہ زیر زمین معیشت اورقیاس آرائی پر مبنی تجارت کی سرپرستی، کثیر القومی کمپنیوں کے ہتھکنڈوں کو نظر انداز کرنااور حکومت کا بڑھتا حجم بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ٹیکس کے معاملات سے دور رکھنا، نا اہل غیر ملک ماہرین پر دارو مدار، غریبوں پر ٹیکس میں اضافہ جبکہ اشرافیہ پر کمی کی وجہ سے ملک بے روزگاری، بد امنی ،سرمائے اور اثاثہ جات کے فرار، سرمایہ کاری میں بھی کمی اور بین الاقوامی عدم اعتماد کا سبب ہے۔#/s#



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…