جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

بھارتی گجرات سے روزانہ کیا چیزواہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آرہی ہے،حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  دسمبر‬‮  2015 |

احمدآباد(نیوزڈیسک) بھارتی ریاست گجرات میں احمد آباد سے ممبئی کی طرف جانے والی شاہراہ پر آنند سے لے کر بھروچ کے درمیان دونوں طرف کیلے کی کاشت ہوتی ہے۔ہر روز ان میں سے قریباً 22 ہزار کلو کیلے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان جاتے ہیں۔آنند سے بھروچ کے درمیان یہ راستہ ایک سو کلومیٹر طویل ہے۔گجرات میں گذشتہ چھ ماہ سے چلنے والی پاٹے دار ریزرویشن تحریک کا اس علاقے پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔یہ پورا علاقہ پٹیل ذات کے لوگوں کا ہے اور کھیتی باڑی سے منسلک تمام کسان پٹیل ذات کے ہونے کے باوجود بھی ریزرویشن کی طلب سے تعلق نہیں کیونکہ انھیں کیلے کی فصل سے ہونے والی کروڑوں کی آمدنی کی وجہ سے ریزرویشن کی طلب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔آنند سے لے کر بھروچ کے درمیان ہزاروں ایکڑ زمین پر زیادہ تر کسان کیلے ہی کی کاشت کرتے ہیں۔وڈودرا گاو¿ں کے کسان اتیش پٹیل نے بتایا کہ میں گذشتہ دس سال سے کیلے کی کاشت کر رہا ہوں۔ میری فصل کا بڑا حصہ پاکستان جاتا ہے۔اتیش پٹیل نے مزید بتایا کہ اس سے ہمیں اس لیے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ہمیں بھارتی بازاروں میں کیلے فروخت کرنےکی فکر نہیں رہتی۔ پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے والے ایجنٹ ہمارے فارم میں آتے ہیں اور پوری فصل کی قیمت لگا کر کھیت سے ہی براہ راست کیلے کنٹینر میں رکھ کر پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ پاکستان میں گجرات کے کیلے کی زیادہ طلب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کیلے کی فصل نہیں ہوتی ۔گجرات کے معروف زرعی ماہر پرمود چودھری نے بتایا کہ اس علاقے میں اتنی مقدار میں کیلے کی فصل ہونے کی وجہ کیلے کے لئے بہترین زمین ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم مناسب درجہ حرارت کا ہونا ہے۔کیلے کی فصل کے لئے 22 سے 32 ڈگری کے درمیان درجہ حرارت سازگار ہے۔ اس سے کم یا زیادہ درجہ حرارت ہو تو کیلے کی فصل اچھی نہیں ہوتی ہے۔ کیلے کی فصل کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی اس علاقے میں دستیاب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…