پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

نئی صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کردیاجائیگا، مرتضیٰ جتوئی

datetime 24  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ جلد نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کردیا جائے گا۔سندھ میں قائم ہونے والے انڈسٹریل پارکس اور سرمایہ کاری زونز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، گوادر میں ایک ہزار ایکٹر زمین پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنایا جارہا ہے، پاک چین کوریڈور منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔کورنگی ایسوسی ایشن ا?ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تاجروصنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وزیراعظم نے سندھ حکومت کو خصوصی گرانٹ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کو جرائم پیشہ عناصر اور لاقانونیت کے سپرد نہیں کیا جاسکتا، قیام امن کے لیے اگر وفاق کو مشکل فیصلے بھی کرنا پڑے تو کریں گے۔غلام مرتضی جتوئی کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت پورے ملک میں ہے، ایران پاکستان گیس پائپ لائن نواب شاہ تک مکمل ہوچکی ہے، ترکمانستان کے ساتھ ہونے والے گیس معاہدے کی تکمیل بھی آئندہ چند برسوں میں ہوجائے گی، 2018تک ملک میں توانائی کا بحران ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی وزارت صنعت و تجارت کے پاس صرف پالیسی سازی اور ریگولرائزیشن کے اختیارات ہیں، اس وقت صنعتوں کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی ایسا ادارہ نہیں جو فیلڈ میں ہو، صنعت کاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس انفرا اسٹرکچر اور ضوابط کے حوالے سے شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں میں مسائل حل کروانے کے لیے صنعت کاروں سے مکمل تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کاٹی کے صدر زاہد سعید نے کہا کہ کراچی کے صنعت کاروں کو لا اینڈ آرڈر، انفرااسٹرکچر اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے تین بڑے مسائل کا سامنا ہے، وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے صنعت کاروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ زاہد سعید نے کہا کہ صنعتی فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی تو آئندہ چند برسوں میں برآمدات کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔تقریب سے راشد صدیقی، زبیر چھایا نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر نے کاٹی کی جانب سے نشاند ہی کردہ مسائل کو حل کرنے کے بھرپور تعاون کا یقین دلوایا۔ اس موقع پر کاٹی کے سینئر نائب صدر سلیم الزماں، نائب صدر سید واجد حیسن، سابق صدور اکبر فاروقی، فرحان الرحمان اور کاٹٰی کے دیگر عہدے داران اور سینئر ارکان نے بھی شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…