پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سی این اسٹیشنز پر گیس کی بندش کے باعث پیٹرول کی ماہانہ کھپت 4 لاکھ 30 ہزار ٹن کے پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے پیٹرول قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ایک طرف تو ملک میں گیس بحران ہے تو دوسری طرح عوام کو پیٹرول کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، اٹک ریفائنری نے حکومت کو آگاہ کر دیا۔سی این اسٹیشنز پر گیس کی بندش کے باعث پیٹرول کی ماہانہ کھپت 4 لاکھ 30 ہزار ٹن کے پہنچ چکی ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سونے پہ سوہاگہ یہ کہ اٹک ریفائنرنے بھی جنوری 2016 سے 16 مارچ کے درمیان مینٹینس کے غرض سے ایک یونٹ بند کرنے کا اعلان کر کے حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ریفائنری کا یہ یونٹ ملکی ضروریات کا 9 فیصد پیٹرول فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا تو ملک میں پیٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…