پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

قیمتی نوادرات بیرون ملک اسمگل کرنیکی کوشش ناکام

datetime 20  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاکستان کسٹمزکے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے بے قاعدگیوں میں ملوث ایل ای ڈی لائٹ کے درآمدکنندگان کو 6کروڑروپے سے زائد مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگی کے نوٹسز جاری کردیے۔میسرزبی ایم ڈبلیو الیکٹرونکس اورمیسرزرائٹ وے ٹریڈنگ کمپنی کو متبادل انرجی کے استعمال پر ڈیوٹی اورٹیکسزکی رعایت کا غلط استعمال کرنے پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی خزانے میں 6کروڑ22لاکھ 98ہزار198روپے جمع کرائیں۔ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی کی جانب سے متعلقہ ڈیٹاکی جانچ پڑتال کے دوران اس بات کاانکشاف ہواہے کہ میسرزبی ایم ڈبلیو الیکٹرونکس کی جانب سے مختلف اوقات میں متفرق واٹ پینل کی ایس ایم ڈی /ایل ای ڈی کے 44 کنسائمنٹس درآمدکیے گئے اوران پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اورانکم ٹیکس کے قانون میں موجود رعایت غلط طریقے سے حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1کروڑ 61 لاکھ83ہزار750روپے کی کم ادائیگی کی جس میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں56 لاکھ41ہزار296روپے، ریگولیٹری ڈیوٹی کی مدمیں 22 لاکھ 56 ہزار518روپے، سیلزٹیکس کی مدمیں 51 لاکھ78ہزار710روپے، ایڈیشنل سیلز ٹیکس کی مد میں 9لاکھ 13ہزار 890روپے کم اداکیے۔
اسی طرح میسرزرائٹ وے ٹریڈنگ کمپنی نے سولرڈائی بیٹری وایل ای ڈی لائٹس، ایل ای ڈی لائٹ اور سولرپینل کے 5 کنسائمنٹس درآمدکیے،اس کمپنی نے بھی کسٹمز ڈیوٹی ،سیلز ٹیکس اورانکم ٹیکس ایکٹ میں موجود قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دی گئی رعایت کا ناجائزفائدہ اٹھاکرقومی خزانہ کو 4 کروڑ 61 لاکھ 14ہزارروپے کا نقصان پہنچایا۔ پوسٹ کلیئرنس ا?ڈٹ کی جانب سے مذکورہ کمپنیوں کی جانچ پڑتال کیے جانے والے ڈیٹاکے مطابق دونوں کمپنیوں کی جانب سے درآمدکیے گئے آئٹمز240 واٹ سے زائد ہیں جبکہ پاکستان میں اسٹینڈرڈ انرجی240 واٹ تک ہے لہٰذ ا درآمدکی گئی اشیا پر ٹیکس رعایت نہیں لی جاسکتی۔دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے مذکورہ دونوں درا?مدکنندگان کو 6کروڑ23لاکھ روپے کی ادائیگی کے احکام جاری کیے ہیں تاہم ڈائریکٹوریٹ نے دونوں کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ اگران کے خلاف بنائی جانے والی آڈٹ آبزرویشن پر اختلاف ہے تووہ 10یوم کے اندراپنے اختلافی نوٹ تحریری طورپر جمع کرائیں۔ دریں اثناءمحکمہ کسٹمز نے کراچی ایئرپورٹ سے 1ارب روپے مالیت کے نوادرات کی اسمگلنگ ناکام بناتے ہوئے مسافرکو گرفتارکرلیا۔
ذرائع نے بتایا کہ چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ ساو¿تھ زاہد کھوکھرکوخفیہ اطلاع ملی تھی کہ کراچی ایئرپورٹ سے قیمتی نوادرات اسمگل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس پرچیف کلکٹر کی خصوصی ہدایات پرکراچی ایئرپورٹ پرتعینات ڈپٹی کلکٹر کسٹمز امجد امان لغاری نے بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کے بیگیج کی جانچ پڑتال سخت کردی جس کے نتیجے میں تھائی ایئرلائن کے ذریعے بینکاک جانے والے مسافر راحیل شکیل کے سامان کی جب تلاشی لی گئی تواس کے سامان سے 1 ارب روپے مالیت کے قیمتی نوادرات برآمد ہوئے۔ اس ضمن میں چیف کلکٹرزاہد کھوکھرسے رابطہ کیاگیا تو انہوںنے تصدیق کی کہ پکڑے جانے والے قیمتی نوادرات میں مجسمے، زیورات، بلیڈ شامل ہیں جو 1500سال سے 4000سال پرانے ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو 1ارب روپے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…