ہفتہ‬‮ ، 24 اکتوبر‬‮ 2026 

نجکاری کے نام پر قومی اداروں سے کھلواڑ،معروف شخصیت کے انکشافات

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

اسلا م آباد(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ پاکستان میں نجکاری کا تجربہ بہت برا رہا ہے، نجکاری کے نام پر قومی اداروں کو کوڑیوں کے بھاﺅ بیچا گیا، نجکاری کا فائدہ غریب آدمی کی بجائے امیر طبقے کو ہوا، موجودہ حکومت کے دور میں نجکاری کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی،نجکاری کے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں زیر بحث نہیں لایا گیا۔ مشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں نے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز اورپی آئی اے کا بیڑا غرق کیا گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کو چھ ماہ سے گیس کی بندش کا سامنا ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ یہ امرافسوس ناک ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت صفر کر دی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت ساٹھ فیصد تک تھی۔ موجودہ حکومت نجکاری کے لیے مشکوک طریقہ اختیار کررہی ہے۔ جس سے شفافیت پر سنجیدہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری بھی چیک کے عوض کر دی گئی ۔ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ نیب سے درخواست ہے کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کی تحقیقات کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے غیر قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ نجکاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے پی آئی اے کو تباہ کیا گیا ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کا آغاز ایک سال قبل شروع کیا گیا تھا۔ پی آئی اے اور اتحاد ایئرلائن کے درمیان گزشتہ برس معاہدہ کیا گیامعاہدے کے تحت پی آئی اے کے ساٹھ بین الاقوامی روٹس اتحاد ایئرلائن کے حوالے کیے گئے ۔ پی آئی اے کے سترہ مقامی روٹس بھی اتحاد ایئرلائن کے حوالے کیے گئے۔ پی آئی اے اور اتحاد ایئرلائن کے معاہدے کے بعد قومی ایئرلائن کے خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اسی معاہدے کے تحت پی آئی اے اتحاد ایئر لائن کے حوالے کرناچاہتی ہے۔ تجربہ کار مشیر نجکاری پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی بحالی کا منصوبہ پیش کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ مشیر نجکاری پی آئی اے کی بحالی کا منصوبہ پیش کرنے کی بجائے ٹی وی ٹاک شوز کے دوسروں سے منصوبہ مانگتے پھر رہے ہیں۔ مشیر نجکاری ایک ہفتے میں پی آئی اے کی بحالی کامنصوبہ پیش کریں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکومت نے پی آئی اے ایکٹ میں ترمیم کرنے کی بجائے آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ آرڈیننس اس بات کا ثبوت ہے کہ پی آئی اے کو بیچ دیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کی ہر فورم پر مخالفت جاری رکھے گی۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رات کے اندھیرے میں جاری کیاگیا آرڈیننس فوری طور پر واپس لے ۔تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر پی آئی اے کا دس سالہ فنانشل آڈٹ کرایا جائے۔ پی آئی اے کی بد حالی کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے چالیس ارب روپے کے منی بجٹ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کا دعویٰ یہ بے بنیاد ہے کہ صرف لگژری اشیا پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔ ایف بی آر کی لسٹ یہ بتارہی ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ اشیا عام آدمی کے استعمال میں ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ، دودھ دہی، چاکلیٹس، بچوں کے ڈائپیرز، فریج پنکھے ٹی وی اب ہر گھر کی ضرورت ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کو عام آدمی کی کوئی پرواہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے ہر حد عبور کرنا چاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بارہ منٹ کا کھیل


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…