پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے بھی ریلیف پیکیج مانگ لیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر نے یارن کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری غیرموثرثابت ہونے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپٹما اسپننگ سیکٹر کی ترجمان اورچہرے بدلنے کی ماہر ہے، حکومت ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ کو سمجھے اور برآمدی مسائل سے نمٹنے کے لیے ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر سے مشاورت کرے۔
ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی نمائندہ ایسوسی ایشنز کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ اپٹماوقت اور ضرورت کے تحت چہرہ بدل لیتی ہے،ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹرنے واضح کیا کہ سال 2010 میں جب ویلیوایڈڈٹیکسٹائل صنعت کو کاٹن یارن کی ضرورت تھی تو اس وقت اپٹما فری مارکیٹ میکنزم کی حوصلہ افزائی اور سپورٹ کر رہی تھی اور اب اس نے فری مارکیٹ میکنزم کے خلاف بات کرکے اپنا موقف تبدیل کرلیاہے جو واضح کرتا ہے کہ اپٹما ہمیشہ صرف اپنے فائدے کے لیے بات کرتی ہے اور ملکی برآمدات اور بہتری کے مفاد میں نہیں۔
ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے سربراہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ کے لیے مقامی مارکیٹ میں یارن کی طلب پیدا کرنا ضروری ہے جو صرف ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر کو سپورٹ اور حریف ممالک سے ان کی کاروباری لاگت کے موازنے کی جانچ سے ہوسکتی ہے، ہم نے بار بار حکومت پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری لاگت کا بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، کمبوڈیا، ویتنام اور چین کے ساتھ موازنہ کرے بلکہ کاروباری لاگت کا جائزہ لینے کے لیے غیرملکی کنسلٹنٹس کو بھی ہائر کیا جائے۔
مزید پڑھئیے: ریحام نے طلاق کی وجہ کالا جادو قرار دے دیا
چیئرمین ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنزنے کہاکہ وزیراعظم کے مشیربرائے ریونیو خود بھی اسپننگ مل کے مالک ہیں، اس لیے وزیرخزانہ اسحق ڈار سے اپیل ہے کی کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ پاکستانی ایکسپورٹ کے مسائل کا حل ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر سے مشاورت میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر کو موجودہ خراب صورتحال کے اسباب سے متعلق بات چیت کے لیے بلایا جائے۔ انھوں نے ایک بار پھر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بحالی کے لیے اقدامات کے فوری اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ یارن پر حال ہی میں لگائی گئی 10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی واپس لی جائے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کی زیرو ریٹنگ (نو پیمنٹ نوریفنڈ) بحال کی جائے، جی آئی ڈی سی ختم اور گیس ٹیرف میں حالیہ 23 فیصد اضافہ کم کرکے معقول بنایاجائے،بجلی چوری پر مبنی سرچارجز کو بجلی کے ٹیرف سے ختم کیا جائے، سیلزٹیکس، ڈی ایل ٹی ایل ریفنڈزاور کسٹم ری بیٹ کلیمز کی رقوم ادا کی جائیں اور گارمنٹ سیکٹر کو ڈی ٹی آر ای اسکیم کے تحت خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…