منگل‬‮ ، 06 جنوری‬‮ 2026 

جدید ترین کرینیں پاکستان پہنچ گئیں، بندر گاہ پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان میں گہرے پانی کی بندرگاہ پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ پر کنٹینرز کی ہینڈلنگ کے لیے جدید اور دیوہیکل کرینز درآمد کر لی گئی ہیں جو کنٹینرز اتارنے اور لوڈ کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ ہانگ کانگ کی ہچین سن پورٹ ہینڈلنگ لمیٹڈ اور پاسکائی فارورڈ پرائیوٹ لمیٹڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے ساوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز لمیٹڈ کا نام دیا گیا ہے، اس منصوبے پر 1ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے، یہ منصوبہ 2016 کے وسط تک تجارتی بنیادوں پر کام شروع کر دے گاجوافغانستان، وسط ایشیااور چین سمیت خطے کے دیگر ممالک کیلیے بھی ٹرانس شپمنٹ سہولت فراہم کریگا، گہرے پانی کی بندرگاہ کے لیے جدید ترین 10 کرینیں پاکستان پہنچ چکی ہیں جن میں کنٹینرز اتارنے والی 4 (ایس ٹی ایس) کرینیں اور ربڑ کے پہیوں پر متحرک 6 ربڑ ٹائر جینٹریز (آر ٹی جیز)شامل ہیں، ان کرینوں کی مدد سے یہ بندرگاہ 18ہزار کنٹینرز(ٹی ای یوز)لانے والے بڑے جہازوں کو بھی ہینڈل کرسکے گی، بندرگاہ کیلیے مزید کرینیں بھی درآمد کی جائیں گی، یہ کرینیں پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اثاثہ ثابت ہوں گی جن کی تنصیب اور آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کا شمار بھی بڑے مال بردار بحری جہازوں کو ہینڈل کرنے والے ملکوں میں کیا جائیگا، یہ کرینیں منگل کو جہاز سے ٹرمینل پراتاری جائیں گی۔



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…