پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ناقابل برداشت کاروباری لاگت ؛ ساڑھے3ماہ میں10لاکھ اسپنڈل بند ہو گئیں، اپٹما

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) ملک میں صنعتی پیداوارکی لاگت میں ناقابل برداشت اضافے کے باعث گزشتہ ساڑھے3ماہ کے دورن پاکستان میں 10 لاکھ اسپنڈلز بند ہوچکی ہیں جن کی تیارکردہ مصنوعات میں سے بیشتر برآمدی نوعیت کی تھیں۔یہ بات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن (اپٹما) کے سینٹرل چیئرمین طارق سعود نے کہی۔ انھوں نے زور دیا کہ ان تمام اسپنڈلز کی بندش کا سب سے بڑا سبب توانائی کی ناقابل برداشت لاگت خصوصاً بجلی کے بلوں میں سرچارجز کی شکل میں شامل کیا جانے والا 3.63 روپے فی یونٹ کا غیرمعمولی اور غیرمنصفانہ بوجھ ہے جو پاورسیکٹر کی نااہلی کوتحفظ دینے کے لیے صنعت پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
طارق سعود نے افسوس کا اظہار کیا کہ سرچارجز کے اس بلاجواز اضافے سے بجلی کی لاگت 14 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ علاقائی حریف ممالک میں یہ لاگت 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پرنقصانات کے باعث ٹیکسٹائل ملز کی اکثریت خصوصاً پنجاب کی ملیں بجلی کے ماہانہ بل دینے کے قابل نہیں رہیں اور ایک بعد دوسری ملک بند ہو رہی ہے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ 20نومبر کے بعد سے بجلی کے بھاری بھرکم ماہانہ بل ملنے کے بعد مزید ٹیکسٹائل ملیں بند ہو سکتی ہیں۔چیئرمین اپٹما نے کہاکہ 10لاکھ اسپنڈلز کی بندش کا مطلب پیداواری نقصانات کے علاوہ روئی کی 10 لاکھ سے زیادہ گانٹھوں کا فروخت نہ ہونا اور 10 لاکھ ملازمین کا روزگار کھونا بھی ہے۔ انھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت پاور سیکٹر کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے صنعتی صارفین کے لیے نیپرا کے اعلان کردہ 9.10 روپے فی یونٹ ٹیرف پر غیرقانونی چارجز عائد کر کے صنعت کو تباہ کرنے پرکیوں تلی ہوئی ہے۔
جس سے پوری سپلائی چین متاثر ہوگی جبکہ پہلے ہی عالمی سطح پر کسادبازاری اور کموڈیٹی پرائسز میں کمی سے مقامی صنعت کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ طارق سعود نے زور دیا کہ یہ وقت ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی لا کر فوری طور پر بنیادی ٹیکسٹائل برآمدات کو منہ کے بل گرنے سے روکا جائے، اپٹما نے زیرالتوا ٹیکسٹائل پیکیج کے لیے جو تجاویز دی ہیں ان کا مقصد بھی ٹیکسٹائل صنعت کی کاروباری لاگت میں کمی لانا ہے۔اس پیکیج سے نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی میں مدد ملے گی بلکہ برآمدات میں اضافے سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاسکے گا، ساتھ ہی ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور حکومت کا قرضوں کے لیے آئی ایم ایف پر انحصار بھی کم ہو گا۔

مزیدپڑھیئے :جیوکے معروف اینکرکاریحام خان کوسونے کے ہارکاتحفہ ،جوطلاق کی وجہ بنا
مزیدپڑھیئے :کرسٹینابیکرنے عمران خا ن کے لئے اسلام کیوں قبول کیا۔۔؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…