پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سوتی دھاگے کی درآمد پر10 فیصد ڈیوٹی عائد ؛ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح0.3 فیصد برقرار

datetime 30  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سوتی دھاگے اورکاٹن کے گرے وپروسیسڈ فیبرکس کی درآمد پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائدکردی ہے جس کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا جب کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 7 نومبر تک 0.3 فیصد رہے گی۔
کمیٹی نے اس کی بھی منظوری دے دی، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت ہوا، کمیٹی نے فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے عالمی ادارہ خوراک کو64 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دی ہے جس کے تحت عارضی نقل مکانی کرنے والے افرادکو دسمبر 2015 تک مجموعی طور پر 2 ارب 56 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کی گندم تقسیم کی جائے گی۔
کمیٹی میں یہ بھی فیصلہ کیا گیاکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2015 میں توسیع کیلیے قومی اسمبلی سے رجوع کیا جائے گا جس کے تحت 15 نومبر تک 0.3 فیصد رعایتی ود ہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق رہے گا، ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ ای سی سی کے پاس رعایتی ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذمیںصرف 7 دن تک توسیع دینے کا اختیار ہے۔
اس لیے 7 نومبر تک توسیع کی ای سی سی نے منظوری دی ہے، اس کے بعد کی توسیع کیلیے قومی اسمبلی سے آرڈیننس میں توسیع کروائی جائے گی، ای سی سی نے تھر مٹیاری ٹرانسمیشن لائن منصوبے کیلیے 18 ارب روپے کی مالی معاونت کیلیے خود مختار حکومتی ضمانت دینے کی بھی منظوری دے دی ہے جبکہ ای سی سی نے کاٹن یارن اورکپڑے کے درآمد پر10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دی ہے جس کا بنیادی مقصد مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ ای سی سی نے پاور ہولڈنگ ایجنسی پرائیویٹ لمیٹڈ کیلیے نیشنل بینک سے 15 ارب روپے کی فنانسنگ حاصل کرنے کیلیے حکومتی ضمانت دینے کی بھی منظوری دے دی ہے، مذکورہ گارنٹی آخری 2 سال کیلیے ہوگی جس میںمزید ایک سال کی توسیع کی جا سکے گی، اس کے علاوہ ای سی سی نے ایک ہزار سے 12 سو میگاواٹ فی منصوبہ تک کے حویلی بہادر شاہ ضلع جھنگ اور ضلع قصور میں کمبائنڈری سائیکل پاور پلانٹس لگانے کے حوالے سے لیٹر آف کریڈٹ کیلیے حکومتی گارنٹی فراہم کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…