پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں کمی ،تاجروں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ صرف یورپ کو بھیجی جانے والی برآمدات میں ماہانہ پانچ سو ملین ڈالر اورسہ ماہی بنیادوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی ہو رہی ہے جبکہ کل برآمدات میں کمی اس سے کہیں زیادہ ہے جس پر توجہ دی جائے۔یورپی برآمدات میں سالانہ چھ ارب ڈالر کی کمی ناقابل برداشت ہے۔عالمی تجارتی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی کر کے برآمدات بڑھانے کا زمانہ گزر گیا ہے اب اسکے لئے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کو جدید ساز و سامان ، کارکردگی و استعداد بڑھانے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بدلتے رجحانات پر توجہ دینی ہو گی جبکہ حکومت کو توانائی بحران حل اور ریفنڈ کی فوری ادائیگی کرنا ہو گی۔ روپے کی قدر میں کمی اس وقت فائدے مند ہو سکتی ہے جب دیگر ممالک ایسا نہ کریں جو پاکستان کے اختیار میں نہیں۔برآمدکنندگان کے مطالبہ کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی نہ کر کے دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اس سے قرضہ اور تجارتی خسارہ بڑھ جاتا۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سالہا سال سے مقامی کرنسی سالانہ آٹھ سے دس فیصد قدر کھو رہی تھی جس پر اب قابو پایا جا رہا ہے اور اس میں مصنوعی کمی ملکی مفاد کے خلاف ہو گی۔کرنسی کی قدر کا تعین اقتصادی حالت کے مطابق ہونا چائیے نہ کہ برآمدات پر۔ برآمدکنندگان کے فائدے کیلئے بیس کروڑ افراد کے مفاد کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ روپے کی قدر کم کرنے سے درآمدات جو برآمدات سے دگنی ہیں کی قیمت 4ارب ڈالربڑھنے کے علاوہ قرضہ اور اسکے سود میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ افراط زر بڑھ جائے گا ۔اگربرآمدکنندگان کی کوششوںسے ڈالرڈیڑھ روپے تک مہنگا کر دیا گیا تو غیر ملکی قرضوں میں ایک کھرب روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا اور اسکا سود بھی اسی تناسب سے بڑھے گا جبکہ برآمدات میں اضافہ کی کوئی گارنٹی نہیں۔ برآمدی شعبہ کی زبوں حالی کو بہتر بنانے کیلئے نہ ملک کو مزید نقصانات پہنچایا جا سکتا ہے نہ بیس کروڑ عوام کے مفادات کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔ چین کی جانب سے کرنسی کی قدر میں دو فیصد کمی کے بعد درجنوں دیگر ممالک نے بھی اپنی کرنسی کی قدر کم کی تاہم انکی برآمدات میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ ویلیوانڈیشن ،برانڈنگ،کوالٹی اور مارکیٹنگ کے شعبوں کو مضبوط بنایا جائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…