پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

پٹرول کا بحران،اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہو(نیوزڈیسک)تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے نیپرا اور وزارت پانی و بجلی کے درمیان جاری کشمکش پر ایک جامع رپورٹ میں وزارت پانی و بجلی کے ملک بھر میں یکساں لوڈ شیڈنگ کئے جا نے کے دعوے کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انڈسٹری کو بھی بلاتعطل پوری بجلی مہیا نہیں کی جار ہی ہے ۔ ملک کے اندر مختلف تقسیم کارکمپنیوں کےلئے لوڈ شیڈنگ کے مختلف دورانیے ہیں ۔اس کے علاوہ وزارت پانی و بجلی کا ےہ دعویٰ کہ آئی پی پیز اور جنکوز کو رقوم کی ادائیگی با قاعدگی سے کی جارہی ہے تا کہ وہ تیل کامطلوبہ ذ خائر برقرار رکھے جاسکیں بھی حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ جنوری 2015میں ملک کے اندر تیل کا بڑا بحران آیا تھا جس کی وجہ ےہ تھی کہ پی ایس او کے پاس ایل سیز کھولنے کےلئے مطلوبہ رقم نہیں تھی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپرا اور وزارت پانی و بجلی ،ملک میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کےلئے دو اہم ستون ہیں لہذا ایک دوسرے کیخلاف الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے اپنے کام پر توجہ دیں تا کہ ملک کے اندرانڈسٹری کا جام پہیہ چل سکے اور معاشی حالات بہتر ہوں،برآمدات میں اضافہ ہواور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہو سکےں۔دونوں ادارے اپنی اپنی اصلاح کریں تا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں بہتری آسکے اورملک میں معاشی ترقی ہو جس کے ثمرات عوام تک پہنچےں ۔ رپورٹ میں شفار ش کی ہے کہ وزارت پانی وبجلی کو چاہےے کہ وہ اپنی خدمات کو بہتر بنائے نیز ریگولیٹر کو چاہےے کہ وہ اپنے میکانیزم کے زریعے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرے۔ےہ رپورٹ آئی پی آر کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ترتیب دی ہے ۔ آئی پی آر نے اپنی رپورٹ میںکہا ہے کہ نیپرا نے اپنی سالانہ رپورٹ میں وزارت پانی و بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور گورننس جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے جن میں بجلی کی پیداو ار و ترسیل ، ٹیرف پالیسی ، سسٹم کی خامیاں اور گردشی قرضے وغیرہ شامل ہیں ۔جبکہ وزارت پانی و بجلی نے ایک اشتہار کے ذریعے نیپرا کے الزمات کو مسترد کر دیا ہے ۔آئی پی آر نے نیپر ا اور وزارت پانی وبجلی پرزور دیاہے کہ بجلی کی کمی پاکستانی عوام کےلئے ایک نازک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ جہاں تک بجلی کی پیداوار کا تعلق ہے رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت 2008-13تک بجلی کی پیداوار بہتر تھی ۔جہاں تک موجودہ دور حکومت کا تعلق ہے مالی سال 2013-14میں ملک میں بجلی کی پیداوار اور کھپت میںنوفیصد اضافہ ہو ا ہے جو کہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے تھاجس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میںبھی کمی واقع ہوئی تھی لیکن پھر -15 2014کے پہلے نو ماہ میں بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی لیکن اب امید ہے کہ مستقبل میں اقتصادی راہداری اور پن بجلی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی کی کمی کو پورا کر دیا جائے گا ۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…