پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل ملز کے 60 فیصد افسر انڈر میٹرک ہیں، چیئر مین نجکاری کمیشن

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیرمملکت وچیئرمین نجکاری کمیشن محمدزبیرنے انکشاف کیاہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 60 فیصدافسران انڈرمیٹرک ہیں،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری میں فراڈکا معاملہ نیب کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دیدی۔کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والاکی زیرصدارت ہوا، وزیر مملکت و چیئرمین نجکاری کمیشن محمدزبیرنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کو مجموعی طور پر 140 ارب روپے خسارے کاسامناہے،اسٹیل ملزکے ذمے سوئی گیس کے 35 ارب،ٹیکس،ڈیوٹیوں کی مدمیں 80 ارب اورنیشنل بینک کے50 ارب روپے واجب الاداہیں جبکہ اسٹیل ملزکے 60فیصدافسران انڈرمیٹرک ہیں،ملزکی مجموعی اراضی 19 ہزارایکڑہے جبکہ سندھ حکومت کیساتھ 17سوایکڑاراضی کاتنازع چل رہاہے،صوبائی حکومت کوملزکی خریداری کے لیے خط لکھ دیاہے۔وزیرمملکت نے مزیدبتایاکہ پی آئی اے کومجموعی طور پر 226 ارب روپے کے خسارے کاسامناہے اور295ارب روپے پی آئی کے ذمے واجب الاداہیں جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن صرف نیشنل بینک کی 63 ارب روپے کی مقروض ہے،انھوں نے بتایاکہ دنیابھرمیں فی جہاز 135 افرادکام کرتے ہیں مگرپی آئی اے میں596 افرادکام کررہے ہیں،چیئرمین سلیم ایچ مانڈوی والانے کہاکہ نیشنل پاورکمپنی کی نجکاری میں شکوک وشبہات پیداکیے گئے ہیں جبکہ کمیٹی نے ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کے معاملے کی تحقیقات کے لیے 3رکنی سب کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے معاملہ نیب کوبھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے۔آن لائن کے مطابق کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ پاکستان میں 9سال کے دوران 35ارب ڈالرکی اسمگلنگ ہوئی ہے،مالی سال 2014میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے 24ارب روپے کی اسمگلنگ ہوئی ہے،افعان ٹرانزٹ کے ذریعے جانیوالی اشیا بارڈکراس کرنے کے فوری بعدواپس لوٹ آتی ہے،چیئرمین ایف بی آرنے کہاکہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے،اسمگلنگ پرقابو پانے کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں،ستارفتح محمدنے کہاکہ ایرانی اسمگل پٹرول ملک بھرمیں استعمال ہورہاہے،یہ نہ صرف بلوچستان سے بلکہ سمندرکے ذریعے بھی اسمگل ہوکرآتاہے،کمیٹی نے ایف بی آرکواسمگلنگ پرقابوپانے کے حوالے سے پالیسی کوازسرنودیکھنے اورنئے لوگوںکوتعینات کرنیکی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…