پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایرانی پھلوں کی بلا رکاوٹ ڈمپنگ، فارمز کو ماہانہ 4ارب کا نقصان

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ایرانی پھلوں کی پاکستان میں بلاروک ٹوک ڈمپنگ سے پاکستانی فارمرز کو ماہانہ 3ارب 96کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔
پاکستان کا زرعی شعبہ بلند پیداواری لاگت کا شکار ہے، دوسری جانب موسمیاتی تغیر کی وجہ سے بھی زرعی پیداوار متاثر ہورہی ہے جبکہ ایران سے بڑے پیمانے پر پھلوں کی پاکستانی منڈیوں میں ڈمپنگ کے بعد زرعی شعبے بالخصوص پھلوں کے فارمرز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران سے زاہدان اور پاکستانی تافتان کے راستے یومیہ بنیادوں پر 30 سے 40کنٹینرز پاکستان میں داخل ہورہے ہیں جن میں زیادہ تر انگور اور سیب شامل ہیں۔ ایران سے یومیہ بنیادوں پر 660ٹن سے زائد پھل پاکستان میں ڈمپ کیے جارہے ہیں جن کی یومیہ مالیت 13کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں انگور اور سیب کی اپنی فصل بازاروں میں موجود ہے تاہم ایرانی پھلوں کی بھرمار کی وجہ سے پاکستانی پھلوں کے فارمرز اور تاجروں کو بھی مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی پھلوں کی سب سے بڑی مارکیٹ کراچی کی فروٹ منڈی ہے جہاں یومیہ بنیادوںپر ایرانی پھلوں کے 20 ٹرالرز پھل لے کر ا?رہے ہیں۔ ایک ٹرالر پر 22سے 23ٹن پھل لدے ہوتے ہیں جن کی اوسط قیمت 200روپے کلو گرام بتائی جاتی ہے جبکہ خوردہ سطح پر یہ پھل اور بھی زائد قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پھلوں کی پاکستان ا?مد سے قبل قرنطینہ جانچ بھی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے پاکستان میں ایرانی پھلوں کی وجہ سے زرعی بیماریاں اور حشرات پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔ ایرانی پھلوں کی زمینی راستے سے درا?مد پر فکس ڈیوٹی عائد ہے۔ فی کنٹینرز 30سے 40ہزار روپے ڈیوٹی کی ادائیگی پر پاکستان میں ایرانی پھل ڈمپ ہورہے ہیں جس سے پاکستانی زرعی شعبے کا مستقبل خطرات سے دوچار ہے اور اس سال انگور اور سیب کے فارمرز مال فروخت نہ ہونے اور قیمت کم ہونے کی وجہ سے خسارے کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب پاکستان سے ایران کوپھلوں کی تجارت کی راہ میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں ایران کی جانب سے پاکستانی پھلوں کر ڈیوٹی کی بلند شرح کا اطلاق کیا جاتا ہے جبکہ ایرانی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی بھی سخت جانچ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی ٹرکوں اور ٹرالرز کو ایران میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی اس کے برعکس ایرانی ٹرالز کراچی کی فروٹ منڈی تک پھلوں کی ترسیل کررہے ہیں۔ پاکستانی فارمرز کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے پھلوں کی درا?مد محدود نہ کی گئی تو پاکستان میں سیب اور انگور کے باغ اجڑ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…