اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت سنجیدگی سے اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ جو اوورسیز پاکستانیز بیرون ملک خون پسینے کی اپنی زرمبادلہ میں کمائی وطن بھجوا رہے ہیں ان کی ترسیلات زر پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا اور اسکے لئے سالانہ 50 ہزار ڈالر بیرون ملک سے حقیقی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے مقرر کرد ی جائے اور اس سے زیادہ صرف اس غیر ملکی ترسیلات زر کو انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 111 (4) سے استثنیٰ ہو جو ملک میں انڈسٹریل یونٹ لگائیں۔ جس میں کم سے کم ایک سو یا ایک سو سے زیادہ افراد کو روزگار ملے ذرائع کے مطابق سٹیٹ بنک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کی طرف سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 111(4) ختم کرنے کی تجویز کی مخالفت ہورہی ہے ان کا موقف ہے کہ چاہئے کالا دھن والے ہنڈی کے ذریعے اپنی غیر قانونی دولت کو قانونی بنا کر لاتے رہیں تو اس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رہے گا اگر شق 111(4) ختم کرنے کی تجویز مان لیں گے تو غیر ملکی ترسیلات زر میں بے حد کمی رونما ہوجائے گی۔جنگ رپورٹر حنیف خالد کے مطابق انکم ٹیکس کے موجودہ قانون کی سیکشن 111(4) میں غیر ملکی ترسیلات زر (Foreign Remittances) جو بنک کے ذریعے آئی ہوں کا ذریعہ آمدنی (Source) نہیں پوچھا جا سکتا۔ اس شق کا فائدہ کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے امرا استعمال کر رہے ہیں اور حکومت نے آنکھیں موندھ کر رکھی ہیں جب کہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بنک ، ایف بی آر سمیت تمام متعلقہ محکموں کو پتہ ہے کہ بے شمار ان ٹیکسڈ فنڈز(Un Taxed Money) ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوائی جا رہی ہے اور پھر اسے غیر ملکی ترسیلات زر(Foreign Remittances) کے بھیس میں وطن منگوائی جا رہی ہے جو کہ مارکیٹ میں ایک سے دو فیصد پریمیم پر کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔ ایسے لوگ بھی جنہوں نے کبھی ملک کے باہر قدم بھی نہیں رکھا ہوگا نہ ان کی ایکسپورٹس جاتی ہیں نہ بیرون ملک کاروبار ہے وہ کروڑوں روپے کے مساوی ترسیلات زر کے سرٹیفکیٹ خریدتے ہیں اور کالے دھن کو سفید کرلیتے ہیں۔ اگر ایک شخص کروڑوں روپے کی غیر ملکی ترسیلات زر ایک یا دو فیصد پریمیم پر خرید سکتا ہے اور اسکے ذریعے اپنے کروڑوں روپے کا کالا دھن سفید کر سکتا ہے تو وہ اس رقم پر 35فیصد کے حساب سے کیوں ٹیکس ادا کرے گا۔ یہ ساری صورتحال ہر حکومت کے وزیر خزانہ کے علم میں ہوتی ہے لیکن آج تک کسی وزیر خزانہ نے اس کو بند کرنے کا عملی اقدام نہیں کیا جبکہ ایف بی آر کئی مرتبہ اسے بند کرنے کی قابل عمل تجویز وزارت خزانہ اور متعلقہ حکام کو پیش کرتا رہا ہے۔ اگر موجودہ حکومت انکم ٹیکس قانون کی شق 111(4) کو ختم کرے دے تو اسکے نتیجے میں کھربوں روپے کے کالے دھن پر حکومت ٹیکس وصول کر سکتی ہے اور اپنے لوکل قرضوں کی مالیت کو بے حد کم کر سکتی ہے اسکے نتیجے میں حکومت قرضوں پر ادا ہونے والے اربوں روپے کے سود سے بھی چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔
50ہزار ڈالر سالانہ تک کی ترسیلات زر کا ذریعہ نہ پوچھنے کی تجویز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سرگودھا،بچی سے زیادتی کی تصدیق، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی، نئی تحقیق
-
بالی ووڈ اداکارہ کا اکشے کمار سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر ک...
-
راولپنڈی ،لین دین تنازعے پر پراپرٹی ڈیلرہلاک
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی



















































