منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

حکومت پنجاب کا چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر نے کا فیصلہ

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

فیصل آباد (آن لائن) ماہرین ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے 2015-16 کےلئے چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے 80 ملین ہیکٹر رقبہ میں سے 30 ملین ہیکٹر رقبہ قابل کاشت ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور گنا ہماری نقد آور فصلیں ہیں مگر ان فصلات کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے ۔ ہماری فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ مشینی کھیتی باڑی کا فقدان ہے۔ کسی بھی فصل کی کامیاب اور بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے جہاں اچھی زمین، اچھا بیج، بوائی کے لئے زمین کی اچھی تیاری، کھادوں کا متناسب استعمال، بروقت آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں کا مﺅثر کنٹرول جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ زرعی مشینری اور آلات کا صحیح استعمال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشینی کاشت سے کم وقت میں زیادہ کام اور بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے اور زمین کا بیشتر حصہ سارا سال زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔کاشتکاروں کو زرعی مشینری کے استعمال سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ان کو صحیح انداز میں استعمال کر کے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہو گا۔ زرعی مشینری کو اپنانے کےلئے سب سے اہم اور ضروری چیز مناسب فارم مشینری کا انتخاب ہے۔ زرعی مشینری کے انتخاب میں جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ان میں مشینری کے کام کا معیار ، مشین کی کارکردگی، قیمت، مضبوطی، پائیداری اور قابل اعتبار ہونا، چلانے کا خرچ، فاضل پرزہ جات کی بآسانی فراہمی اور خراب ہونے کی صورت میں مقامی طور پر مرمت کی سہولت میسر ہونا شامل ہیں۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ٹریکٹر ساز اداروں کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر ان کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کریں، ڈرافٹ کنٹرول اور پوزیشن کنٹرول کو درست رکھیں، ٹائروں میں سفارش کردہ مقدار سے ہوا زیادہ نہ بھریں تاکہ ویل کی پھسلن نہ ہو، کم کارآمد چوڑائی والے زرعی آلات کو زیادہ رفتار سے چلائیں اور زیادہ چوڑائی والے زرعی آلات کم رفتار سے چلائیں۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ مشینی کاشت کا پوری دنیا میں 1.5 ہارس پاور فی ایکڑ سٹینڈرڈ ہے جبکہ پاکستان میں 0.52 ہارس پاور فی ایکڑ دستیاب ہے جس کے لئے پاکستان میں ٹریکٹروں کی تعداد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…