منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت پنجاب کا چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر نے کا فیصلہ

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

فیصل آباد (آن لائن) ماہرین ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے 2015-16 کےلئے چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے 80 ملین ہیکٹر رقبہ میں سے 30 ملین ہیکٹر رقبہ قابل کاشت ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور گنا ہماری نقد آور فصلیں ہیں مگر ان فصلات کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے ۔ ہماری فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ مشینی کھیتی باڑی کا فقدان ہے۔ کسی بھی فصل کی کامیاب اور بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے جہاں اچھی زمین، اچھا بیج، بوائی کے لئے زمین کی اچھی تیاری، کھادوں کا متناسب استعمال، بروقت آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں کا مﺅثر کنٹرول جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ زرعی مشینری اور آلات کا صحیح استعمال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشینی کاشت سے کم وقت میں زیادہ کام اور بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے اور زمین کا بیشتر حصہ سارا سال زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔کاشتکاروں کو زرعی مشینری کے استعمال سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ان کو صحیح انداز میں استعمال کر کے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہو گا۔ زرعی مشینری کو اپنانے کےلئے سب سے اہم اور ضروری چیز مناسب فارم مشینری کا انتخاب ہے۔ زرعی مشینری کے انتخاب میں جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ان میں مشینری کے کام کا معیار ، مشین کی کارکردگی، قیمت، مضبوطی، پائیداری اور قابل اعتبار ہونا، چلانے کا خرچ، فاضل پرزہ جات کی بآسانی فراہمی اور خراب ہونے کی صورت میں مقامی طور پر مرمت کی سہولت میسر ہونا شامل ہیں۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ٹریکٹر ساز اداروں کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر ان کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کریں، ڈرافٹ کنٹرول اور پوزیشن کنٹرول کو درست رکھیں، ٹائروں میں سفارش کردہ مقدار سے ہوا زیادہ نہ بھریں تاکہ ویل کی پھسلن نہ ہو، کم کارآمد چوڑائی والے زرعی آلات کو زیادہ رفتار سے چلائیں اور زیادہ چوڑائی والے زرعی آلات کم رفتار سے چلائیں۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ مشینی کاشت کا پوری دنیا میں 1.5 ہارس پاور فی ایکڑ سٹینڈرڈ ہے جبکہ پاکستان میں 0.52 ہارس پاور فی ایکڑ دستیاب ہے جس کے لئے پاکستان میں ٹریکٹروں کی تعداد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…