جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت پنجاب کا چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر نے کا فیصلہ

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

فیصل آباد (آن لائن) ماہرین ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے 2015-16 کےلئے چھوٹے کاشتکاروں کو 3 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر 25 ہزار ٹریکٹر فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کے 80 ملین ہیکٹر رقبہ میں سے 30 ملین ہیکٹر رقبہ قابل کاشت ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور گنا ہماری نقد آور فصلیں ہیں مگر ان فصلات کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے ۔ ہماری فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ مشینی کھیتی باڑی کا فقدان ہے۔ کسی بھی فصل کی کامیاب اور بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے جہاں اچھی زمین، اچھا بیج، بوائی کے لئے زمین کی اچھی تیاری، کھادوں کا متناسب استعمال، بروقت آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں کا مﺅثر کنٹرول جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ زرعی مشینری اور آلات کا صحیح استعمال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشینی کاشت سے کم وقت میں زیادہ کام اور بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے اور زمین کا بیشتر حصہ سارا سال زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔کاشتکاروں کو زرعی مشینری کے استعمال سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ان کو صحیح انداز میں استعمال کر کے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہو گا۔ زرعی مشینری کو اپنانے کےلئے سب سے اہم اور ضروری چیز مناسب فارم مشینری کا انتخاب ہے۔ زرعی مشینری کے انتخاب میں جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ان میں مشینری کے کام کا معیار ، مشین کی کارکردگی، قیمت، مضبوطی، پائیداری اور قابل اعتبار ہونا، چلانے کا خرچ، فاضل پرزہ جات کی بآسانی فراہمی اور خراب ہونے کی صورت میں مقامی طور پر مرمت کی سہولت میسر ہونا شامل ہیں۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ٹریکٹر ساز اداروں کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر ان کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کریں، ڈرافٹ کنٹرول اور پوزیشن کنٹرول کو درست رکھیں، ٹائروں میں سفارش کردہ مقدار سے ہوا زیادہ نہ بھریں تاکہ ویل کی پھسلن نہ ہو، کم کارآمد چوڑائی والے زرعی آلات کو زیادہ رفتار سے چلائیں اور زیادہ چوڑائی والے زرعی آلات کم رفتار سے چلائیں۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ مشینی کاشت کا پوری دنیا میں 1.5 ہارس پاور فی ایکڑ سٹینڈرڈ ہے جبکہ پاکستان میں 0.52 ہارس پاور فی ایکڑ دستیاب ہے جس کے لئے پاکستان میں ٹریکٹروں کی تعداد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…