منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے قانونی پلانٹس بند ہیں

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انکشاف کیا ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی سرکاری اور نجی کمپنیاں نا صرف بجلی کی مقررہ پیداوار میں ناکام رہی ہیں بلکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی . صارفین کو نا مناسب (غلط) بل جاری کررہی ہیں۔نیپرا نے اپنی سالانہ رپورٹ سال 15-2014 میں بتایا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے قانونی پلانٹس بند ہیں . غیر قانونی پلانٹس کام کررہے ہیں جس کے باعث بجلی کی لوڈ شیڈینگ اور اس کے شاٹ فال میں اضافہ ہوا ہے۔نیپرا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ان کی خصوصی ٹیم کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے مطابق بجلی فراہم کرنے والی بیشتر کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو فراہم کئے جانے والے 70 فیصد میٹر پرانے اور فرسودہ ہیں جس کے نتیجے میں بیشتر صارفین کو زائد بلنگ بھی کی جاتی ہے۔خصوصی ٹیم کو سروے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 11 کلو واٹ میٹر والے کمروں کی حالے انتہائی خراب ہے اور ان کے تحفظ کے لئے کسی قسم کا نظام موجود نہیں ہے۔بجلی کی تاریں اور کھمبوں کی حالت انتہائی ابتر ہے جو کہ ناصرف بجلی کی فراہمی میں مداخلت کا باعث ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ریلائبلٹی سٹینڈرڈز حاصل کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کے گھریلوں، کمرشل اور صنعتی صارفین منظور کردہ لوڈ سے زائد بجلی استعمال کررہے ہیں تاہم کمپنیوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث ٹرانسفارمز پر لوڈ 80 سے 100 فیصد تک زائد ہے جو کہ مستقل ٹرپنگ کا باعث ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…