منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں 2 لاکھ کھالیں خراب ہونے کے باعث لیدر انڈسٹری کو 30 کروڑ کا نقصان

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی میں33کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کھالیں دیکھ بھال نہ ہونے اور بروقت کلیکشن پوائنٹس تک نہ پہنچنے کی وجہ سے خراب ہوگئیں۔ٹینریز ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی میں 2لاکھ سے زائد کھالیں مختلف وجوہات کی بنا پر خراب ہوگئیں جس سے لیدر کی صنعت کو 30کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی لیدر انڈسٹری کو خام مالی کی فراہمی میں قربانی کی کھالوں کا حصہ 60فیصد ہے، قربانی کے جانوروں کی کھال سے تیار شدہ چمڑہ کوالٹی میں سب سے بہتر ہوتا ہے جس کی بنا پر پاکستان میں تیار شدہ لیدر مصنوعات کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ قربانی کی کھالوں کو گرمی سے بچاکر رکھتے ہوئے فوری طور پر نمک لگاکر پروسیسنگ کے لیے ٹینریز بھجوانا ہوتا ہے، 24 گھنٹوں میں چمڑہ سازی کا عمل شروع نہ کیا جائے تو کھال ضائع ہوجاتی ہے۔ لیدر گارمنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق مختلف فلاحی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے وقت پر کھالیں نہ پہنچا سکنے کے باعث اتنی بڑی تعداد میں کھالیں خراب ہوئی ہیں تاہم اگر بروقت کھالیں پہنچا دی جاتیں تو نقصان سے بچا جاسکتا تھا۔رواں سال ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ گائے اور بیل کی کھال 1500 سے1800 روپے، بکرے اور دنبے کی کھال ڈیڑھ سو سے 300 روپے اور اونٹ کی کھال 400 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال عید الاضحی کے موقع پر12ارب روپے مالیت کی کھالیں خریدی گئی تھی تاہم اس سال قیمتیں کم ہوجانے سے ان کی مالیت8ارب روپے تک محدود رہ سکتی ہے۔رواں سال عالمی سطح پر لیدر مصنوعات کی طلب کم ہونے کے باعث پاکستانی مارکیٹ میں بھی کھالوں کی قیمتیں گرگئیں جس کے باعث عید قرباں پر فلاحی اداروں کو کھالوں کی فروخت سے ملنے والی ا?مدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کراچی آپریشن کے ثمرات اس سال قربانی کے حوالے سے بھی دیکھے گئے ہیں کیونکہ گزشتہ سال کی نسبت کثیر تعداد میں شہریوں نے قربانی کی اور ایک اندازے کے مطابق کراچی کے شہریوں نے اس سال جانوروں کی قربانی پر 30ارب سے32ارب روپے تک خرچ کیے۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے سابق مرکزی چیئرمین گلزار فیروز نے بتایا کہ گائے اور بچھڑے کی کھالوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 سے 18فیصد اضافہ ہوا ہے،گزشتہ سال ملک بھر سے گائے کی کھالیں 25 لاکھ مل سکی تھیں جبکہ اس سال پاکستان بھر سے 30لاکھ سے زائد گائے کی کھالیں مل جائیں گی تاہم بکرے کی کھالوں میں کمی آئی ہے، گزشتہ سال ٹینری سیکٹر کو40لاکھ بکرے کی کھالیں،30ہزار اونٹ کی کھالیں اور10لاکھ دنبے کی کھالیں ملی تھیں۔ رواں سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستان بھر میں 30لاکھ سے زائد گائے کی کھالیں دستیاب ہوں گی جبکہ رواں سال بکرے کی کھالوں میں 8 سے 10فیصد تک کمی آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…