منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ودہولڈنگ ٹیکس ،صورتحال خطرناک ہوگئی

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

ودہولڈنگ ٹیکس سے ہونے والے فائدے کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوگی۔انہوںنے کہا کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان کشیدگی کی فضا کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اس سے نہ صرف ملک میںکاروباری ماحول خراب ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بھی خراب ہوگی اور یہ تاثر ابھرے گا کہ پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر نہیں ہے۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ عالمی سطح پر یہ پیغام دینا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کاروبارکے لیے بہترین جگہ ہے مگر ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر حکومت اور تاجروں کے درمیان محاذ آرائی صورتحال خراب کررہی ہے۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس دراصل دوہرا ٹیکس اور ایک جبری قانون ہے جو تاجر قبول کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تصادم کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا، حکومت کو چاہیے کہ تاجروں سے سنجیدہ مذاکرات کرے تاکہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس کے معاملے پر کشیدگی کی صورتحال ختم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب معیشت بحالی کی جانب جارہی ہے، تاجر برادری سے محاذ آرائی حکومت کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دے گی۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر نے کہا کہ ہڑتال کرکے تاجروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت بینکوں سے لین دین پر ٹیکس قبول نہیں کریں گے جبکہ بینکنگ سیکٹر کو بھی ڈیپازٹ میں کمی کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے لہذا بہتر یہی ہوگا کہ حکومت یہ ٹیکس واپس لے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے دیگر اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس عائد کرنے کے بعد تاجروں نے بینکوںسے سرمایہ نکلوانا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے بینکوں کے ٹرن اوور میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اگر حکومت نے ودہولڈنگ ٹیکس واپس نہ لیا تو بینکنگ سیکٹر بھی تباہ ہوجائے گا۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس کے خلاف حالیہ ہڑتال کی وجہ سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ، اگر تاجروں کو مزید ہڑتال پر مجبور کیا گیا تو معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ ودہولڈنگ ٹیکس فوری طور پر واپس لینے کے احکامات صادر کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…