منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

ودہولڈنگ ٹیکس ،صورتحال خطرناک ہوگئی

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

ودہولڈنگ ٹیکس سے ہونے والے فائدے کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوگی۔انہوںنے کہا کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان کشیدگی کی فضا کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اس سے نہ صرف ملک میںکاروباری ماحول خراب ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بھی خراب ہوگی اور یہ تاثر ابھرے گا کہ پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر نہیں ہے۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ عالمی سطح پر یہ پیغام دینا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کاروبارکے لیے بہترین جگہ ہے مگر ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر حکومت اور تاجروں کے درمیان محاذ آرائی صورتحال خراب کررہی ہے۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس دراصل دوہرا ٹیکس اور ایک جبری قانون ہے جو تاجر قبول کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تصادم کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا، حکومت کو چاہیے کہ تاجروں سے سنجیدہ مذاکرات کرے تاکہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس کے معاملے پر کشیدگی کی صورتحال ختم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب معیشت بحالی کی جانب جارہی ہے، تاجر برادری سے محاذ آرائی حکومت کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دے گی۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر نے کہا کہ ہڑتال کرکے تاجروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت بینکوں سے لین دین پر ٹیکس قبول نہیں کریں گے جبکہ بینکنگ سیکٹر کو بھی ڈیپازٹ میں کمی کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے لہذا بہتر یہی ہوگا کہ حکومت یہ ٹیکس واپس لے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے دیگر اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس عائد کرنے کے بعد تاجروں نے بینکوںسے سرمایہ نکلوانا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے بینکوں کے ٹرن اوور میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اگر حکومت نے ودہولڈنگ ٹیکس واپس نہ لیا تو بینکنگ سیکٹر بھی تباہ ہوجائے گا۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس کے خلاف حالیہ ہڑتال کی وجہ سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ، اگر تاجروں کو مزید ہڑتال پر مجبور کیا گیا تو معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ ودہولڈنگ ٹیکس فوری طور پر واپس لینے کے احکامات صادر کریں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…