منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرامد ،سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اردو میں خط و کتابت شروع کر دی

datetime 13  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے انگریزی کے بجائے قومی زبان استعمال کرنے کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اردو میں خط وکتابت کا آغاز کر دیا۔کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا ’ایس ای سی پی نے اہم قوانین اور قواعد و ضوابط کا اردو میں ترجمہ کرنے کیلئے ایک علیحدہ محکمہ قائم کر دیا‘۔کمیشن کے اجلاسوں، سیمیناروں، کانفرنسوں اور سماعتوں کے دوران اردو زبان استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ایس ای سی پی چیئرمین ظفر حجازی نے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے۔حجازی کے مطابق، قائد اعظم بھی یہی سمجھتے تھے کہ اردو زبان قومی اتحاد اور ہم آہنگی یقینی بنا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن اردو نہ سمجھ پانے والوں کے ساتھ بھی رابطے کیلئے اردو ہی استعمال کرے گا۔کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اردو نہ سمجھنے والوں کے معاملے میں مترجم کی سہولت استعمال کی جائے گی۔حکومت نے تمام محکموں میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر اپنانے کے احکامات دے رکھے ہیں لیکن دوسری ریگولیٹری باڈیز کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے انہیں اس ضمن میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ایک ریگولیٹری باڈی کے افسر نے بتایا کہ انہیں فی الحال عدالتی حکم کی تفصیلات نہیں ملیں۔ ’ہم نے مختلف مقاصد مثلا پریس ریلیز اور پارلیمانی باڈیز کے سوالوں کے جوابات دینے کیلئے اردو استعمال کرنا شروع کر دی ہے لیکن اس حوالے سے مزید کیا کرنا ہے ہمیں معلوم نہیں‘۔حکام محسوس کرتے ہیں کہ انگریزی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ سب سے مشکل کام ہے لیکن ایس ای سی پی کے محکمہ ترجمہ نے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ایک طریقہ کار اپنایا ہے۔کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ وہ عام طور پر استعمال ہونے والے انگریزی الفاظ کی لغت تیار کر کے وزارت خزانہ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔کمیشن نے سرکاری ریکارڈ اور خط و کتابت کیلئے ’نستعلیق‘ فونٹ منتخب کیا ہے جبکہ اردو میں ویب سائٹ پر بھی کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…