منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بجلی کا بحران حل کرنے کیلئے حکومت کا انوکھافیصلہ

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بجلی کا بحران حل کرنے کیلئے حکومت کا انوکھافیصلہ،نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے قواعد و ضوابط کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت گھریلو اور صنعتی صارفین شمسی توانائی سے بجلی بنا کر خود استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ طے شدہ ریٹ پر مقامی بجلی کمپنی کو زائد بجلی فروخت بھی کر سکتے ہیں،اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ نیپرا نے طویل انتظارکے بعدفوٹو وولٹیک پلانٹس کے قیام کے حوالے سے صارفین کی حوصلہ افزائی کےلئے نیٹ میٹرنگ کے قواعد و ضوابط کی بالآخرمنظوری دے دی ہے ۔نیٹ میٹرنگ ترقی یافتہ ممالک میں ایک مقبول رجحان ہے کیونکہ یہ روزہ مرہ کے گھریلو اور صنعتی آپریشنز کوبجلی فراہم کرنے کیلئے شمسی توانائی کوبروئے کارلاتی ہے ۔نیٹ میٹرنگ ریورس پیمائش کے تصور کو لاگوکرتا ہے جو صارفین کو طے شدہ ٹیرف کی شرح پر زائدبجلی کوگرڈ کو فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کی بنیاد پر صارفین استعمال شدہ بجلی کا فکس بل ادا کرتے ہیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…