منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ٹرن اوور ٹیکس کےخلاف ہڑتال جاری، پورٹس کے چوک ہونے کا خدشہ

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) حکومت کی جانب سے سال2009 سے 8 فیصد ٹرن اوورٹیکس کے خلاف فریٹ فارورڈرز اور ایئرکارگوایجنٹس کی ہڑتال بدھ کو دوسرے دن بھی جاری رہی جس کے نتیجے میں ایئرپورٹس، سی پورٹس اور ڈرائی پورٹس کے ذریعے برا?مدی سرگرمیاں معطل رہیں، دودن سے جاری ہڑتال سے ملکی برآمدات کی مد میں26 کروڑ ڈالرکا نقصان پہنچ گیاہے۔ہڑتال کے سبب ٹیکسٹائل، ریڈی میڈگارمنٹس، ہوزری، لیدرسمیت جلد خراب ہونے والی مصنوعات کے برآمدکنندگان میں زبردست اضطراب کی لہردوڑ گئی ہے جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس نے بھی اپنے کلائنٹس کی کلیئرنس کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی نشاندہی کر دی ہے۔حساس شعبے کی جاری ہڑتال کے باوجود حکومت کی جانب سے متعلقہ ایسوسی ایشنز کے رہنماو¿ں کے ساتھ بدھ کی شام تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تاہم ٹریڈ سیکٹر کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہڑتال اگر ایک ہفتے تک جاری رہی تو برآمدودرآمدکنندگان کو نہ صرف خطیراضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا بلکہ پاکستانی مصنوعات کے بیرونی خریداراپنے برآمدی آرڈرز منسوخ کردیں گے، ساتھ ہی کراچی کی دونوں بندرگاہیں اور ٹرمینلز ہزاروں درآمدی کنٹینرز کی آمد کے سبب چوک ہوجائیں گی۔پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم سعید خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت غیرمنصفانہ 8 فیصد ٹرن اوور ٹیکس واپس لینے کا باضابطہ اعلان نہیں کرے گی ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ چیئرمین ایف بی آرکے رابطہ کرنے پر نہیں بلکہ وفاقی وزیرخزانہ یا وفاقی مشیرخزانہ کے براہ راست رابطہ کرنے کی صورت میں مذاکرات کریں گے۔انہوں نے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ عوامی نمائندے ہونے کے ناطے اس غیرمنصفانہ ٹیکس کے خلاف اعلیٰ ایوانوں میں آواز بلند کریں کیونکہ اس ٹیکس کو نافذ کرکے پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے منصوبے کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مقامی وغیرملکی لاجسٹک کمپنیوں نے اکنامک کوریڈور کے منصوبے کے حوالے سے ٹرکنگ کے لیے517 ملین ڈالر کے معاہدے کیے ہیں لیکن حکومت ان معاہدوں پر شب خون مار رہی ہے۔ایئرکارگوایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین محمد فرخ اقبال نے بتایا کہ کسی بھی حکومتی نمائندے نے رابطہ کرنا گوارا نہیں کیا،ہم نے ہڑتال کے خاتمے کو8 ٹرن اوورٹیکس کے خاتمے سے مشروط کردیا۔دریں اثنا کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل خرم اعجاز نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کا اس ہڑتال سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس ہڑتال کی وجہ سے پورٹ اور ٹرمینلز پر کارگوکی نقل وحمل، درآمدی و برآمدی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں، ہڑتال اگرطول اختیار کرگئی تو چند دنوں کے بعد پورٹ اور ٹرمینلز جام ہوجائیں گی،حکومت مطالبات مان کرہڑتال ختم کرائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…