منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کرپشن کی نشاندہی پر100کھیپوں کی کلیئرنس روک دی گئی

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن انفورسمنٹ نے کرپشن کی نشاندہی پربیگیج کے 100سے زائد کنسائمنٹس کی کلیئرنس پورٹ قاسم اور ویسٹ وہارف پر روک دی ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹرکسٹمزانٹیلی جنس اینڈانوسٹی گیشن انفورسمنٹ یعقوب ماکو کو بیگیج کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں بدعنوانیوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر پورٹ قاسم اور ویسٹ وہارف پر بیگیج کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس روک کر بیگیج کے کنسائمنٹس کی مشترکہ ایگزامینیشن کرنے کی ہدایت جاری کیں جس پر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن انفورسمنٹ اور ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پریونٹیوکے افسران نے کام شروع کردیا، مشترکہ ایگزامینیشن کے دوران ویسٹ وہارف پر بیگیج کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں بدعنوانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ پورٹ قاسم اور ویسٹ ہارف سمیت تمام ٹرمینل پر بیگیج کے کنسائمنٹس کی ایگزامینیشن پریونٹیوکلکٹریٹ کے افسران کی جانب سے کی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک پاسپورٹ پر بیگیج کے متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس کی جاتی ہے جس کے لیے پریونٹیوکلکٹریٹ کے افسران مبینہ طورپر1.5 لاکھ روپے فی کنٹینروصول کرکے بیگیج درآمدکرنے والے کی خواہش کے مطابق رپورٹ دیتے ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ ٹی آرپر آنے والے بیگیج کے کنسائمنٹس میں نئے سامان کی بڑی مقداردرآمدکی جاتی ہے جس پر لاکھوں روپے فی کنٹینرز کے ڈیوٹی و ٹیکسزعائد ہوتے ہیں لیکن پریونٹیوکلکٹریٹ کے افسران چند پیسوں کی خاطر اسمگلر مافیا کے ساتھ مل کرقومی خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…