منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سندھ نے اشیا پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ کردیا

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سندھ نے اشیا پر سیلز ٹیکس عائد کرنے اور وصول کرنے کا اختیار بھی صوبوں کو دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔حکام کے مطابق صوبہ سندھ کے اس مطالبے پرقومی مالیاتی کمیشن کے دوسرے ورکنگ گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا، ورکنگ گروپ کا اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین و ممبر قومی مالیاتی کمیشن سینیٹرسلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ سید مظفر شاہ، سندھ کے وزیر خزانہ مراد علی شاہ، بلوچستان کے ممبر قیصر بنگالی کے علاوہ سندھ اور پنجاب ریونیو اتھارٹیز کے چیئرمین سمیت چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق اجلاس کے دوران صوبہ سندھ نے اشیا کے شعبے پر سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سینٹرمانڈوی والا نے ورکنگ گروپ کی سفارشات کے حوالے سے کہا کہ ورکنگ گروپ نے تجویز دی ہے کہ اشیا کے شعبے پرسیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کو منتقل کی جائے، صوبے وصول شدہ ٹیکسز کو وفاقی حکومت کے سپرد کرسکتے ہیں جسے وفاقی حکومت قابل تقسیم محاصل سے صوبوں کو واپس منتقل کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ورکنگ گروپ کی سفارشات کے مطابق وفاقی حکومت سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ وصولی کرنے والے صوبوں کواضافی مراعات سے نواز سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے سندھ کے مطالبے کی حمایت کی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں سنجیدہ نہیں ہے، وفاقی حکومت کی وجہ سے ورکنگ گروپ کا اجلاس دوبارملتوی ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کواین ایف سی ایوارڈ میں دی گئی ایک سال کی توسیع غیرقانونی ہے، وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ پر فوری طور پر اجلاس بلائے اور بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ میں دی گئی ایک سال کی توسیع کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وفاقی حکومت اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل منتقل کرے کیونکہ وفاقی حکومت اٹھارویں ا?ئینی ترمیم پر عمل درا?مد نہیں کررہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…