منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل ملز کا زمین رہن رکھوا کر قرض لینے کا منصوبہ تیار

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سوئی سدرن گیس کی طرف سے گیس کی بندش کو دو ماہ مکمل ہوگئے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو پیداوار کی مد میں 4ارب سے زائد کا نقصان ہوگیا۔اسٹیل ملز نے مالی مسائل سے نکلنے کے لیے اسٹیل ملز کی زمین بینکوں میں رہن رکھ کر قرضہ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کی باقاعدہ اجازت کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست کر دی ہے۔ اسٹیل ملز کے حکام کے مطابق اسٹیل ملز کی پیداوار صفر کی سطح پر پہنچنے پر پاکستان اسٹیل ملز کی معیاری مصنوعات کی فروخت سے حاصل کردہ آمدن بھی شدید متاثر ہو گئی ہے، جس کے باعث خام لوہے اور کوئلے کی درآمد اور خریداری کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خام مال کو فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھنا نا ممکن ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز سے سوتیلے پن کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ الیکٹرک کمپنی پر سوئی سدرن گیس کے 55ارب روپے واجب الادا ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا گیس پریشر کم نہیں کیا گیا۔ اسٹیل ملز کی موجودہ انتظامیہ نے گزشتہ برس کے دوران 2ارب 20کروڑ روپے ادا کیے یعنی20 کروڑ روپے ماہانہ کے حساب سے ادا کیے گئے اور 40 کروڑ روپے کی رقم مارچ 2015 میں ادا کی گئی۔ پاکستان اسٹیل پر گیس بل کی مد میں اصل واجب ادا رقم 18ارب روپے ہے جبکہ 17ارب روپے سرچارج کی مد میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اب اسٹیل ملز کی انتطامیہ نے مالی مسائل سے نکلنے کیلئے اسٹیل ملز کی زمین بینکوں میں رہن رکھ کر قرضہ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کی باقاعدہ اجازت کیلیے وفاقی حکومت کو درخواست کر دی ہے۔اسٹیل ملز کی پیداوار صفر کی سطح پر پہنچنے پر پاکستان اسٹیل ملز کی معیاری مصنوعات کی فروخت سے حاصل کردہ آمدن بھی شدید متاثر ہو گئی ہے جس کے باعث خام لوہے اور کوئلے کی درآمد اور خریداری کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خام مال کو فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھنا نا ممکن ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں اس لیے اسٹیل ملز کو اپنے وسائل پر منافع بخش ادارہ بنانے کا موقع فراہم کیا جائے کیونکہ ملک کی معیشت کا انحصار اسٹیل انڈسٹری سے جڑا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…