اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت پٹرولیم حکام کے مطابق توانائی کے شعبے میں زیر گردش قرضوں کے باعث قطر سے گیس امپورٹ کرنے کے اس منصوبے کو کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قطری حکام کا مطالبہ ہے کہ پاکستان زیر گردش قرضوں کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے تاکہ خریدی جانے والی ایل این جی کی بروقت ادائیگیاں ممکن ہو سکے۔ قطر کی وزارت پٹرولیم کا وفد انھیں معاملات پر بات چیت کے لیے 26 اگست کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ مجموعی طور پر 22 ارب ڈالر کے اس منصوبے کے تحت پاکستان 15 سال تک سالانہ 30 لاکھ ٹن ایل این جی قطر سے درآمد کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
ایل این جی کی درآمد، قطری حکام 26 اگست کو پاکستان کا دورہ کریں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بسنت کے معاملے میں
-
رمضان 2026 میں صدقۂ فطر اور فدیہ کی نئی رقوم مقرر
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، پاک بھارت میچ ہونے کا امکان
-
بارشوں کا نیا طاقتور سپیل پاکستان میں داخل، الرٹ جاری
-
پنجاب حکومت کی بیوہ خواتین کیلئے سپورٹ کارڈ اسکیم منظور
-
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پی ٹی آئی کے2 اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا
-
صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری
-
اداکارراجپال یادیو قرض تنازع کیس میں تہاڑ جیل منتقل
-
آئی سی سی نے پی سی بی اور بی سی بی کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات جاری کردیں
-
بھارتی کھلاڑیوں نےبلّے کے ساتھ کیا کر رکھا ہے ،سری لنکن کرکٹر نے بھارتی بیٹرز کے بلّوں پر سوال اٹھا...
-
ڈرائیورز خبردار، آن لائن ٹیکسی والوں کے لیے نیا الرٹ جاری
-
وزیراعلی پنجاب کا رمضان سے قبل عوام کے لیے شاندار تحفہ
-
سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمتوں میں مزید اضافہ



















































