بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

پراناچاول فروخت نہ ہونے سے ملز مالکان اورکاشتکار پریشان

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) چاول کی برآمدات میں غیر معمولی کمی اور دو سال پرانا چاول فروخت نہ ہونے سے منجی کے کاشتکار پر خطرے کے بادل منڈلانا شروع ہو گئے ہیں، گزشتہ دو برس سے بین الاقوامی حالات اور حکومت کی عدم توجہی کے باعث چاول ایکسپورٹ نہیں ہو سکا اورقیمتوں میں انتہائی کمی کے باعث یہ چاول ابھی تک گوداموں میں پڑا ہے ، چاول فروخت نہ ہونے کے باعث رائس ملز مالکان اربوں روپے کے ڈیفالٹر ہو چکے ہیں جن میں چاول کی تیسری فصل خریدنے کی سکت نہیں ،کسان تنظیموں کے مطابق موجودہ صورتحال میں منجی کے کاشتکار کا کڑا امتحان شروع ہونے والا ہے جس کے بعد کسان چاول کی کاشت سے گریز کرے گا۔پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت ملک کی رائس ملز کے گوداموں میں 5 لاکھ ٹن چاول پڑا ہے جس کا کوئی خریدار نہیں ، ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین فیصل مقصود چیمہ کا کہنا ہے کہ 2 سال بعد چاول خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے ، حکومت فی الفور سٹاک پاسکو یا ٹی سی پی کے ذریعے خرید کر مالکان کو ریلیف دے اور انڈسٹری کو بیمار صنعت قرار دیتے ہوئے بینکوں کا مارک اپ فوراً ختم کیا جائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…