منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پراناچاول فروخت نہ ہونے سے ملز مالکان اورکاشتکار پریشان

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) چاول کی برآمدات میں غیر معمولی کمی اور دو سال پرانا چاول فروخت نہ ہونے سے منجی کے کاشتکار پر خطرے کے بادل منڈلانا شروع ہو گئے ہیں، گزشتہ دو برس سے بین الاقوامی حالات اور حکومت کی عدم توجہی کے باعث چاول ایکسپورٹ نہیں ہو سکا اورقیمتوں میں انتہائی کمی کے باعث یہ چاول ابھی تک گوداموں میں پڑا ہے ، چاول فروخت نہ ہونے کے باعث رائس ملز مالکان اربوں روپے کے ڈیفالٹر ہو چکے ہیں جن میں چاول کی تیسری فصل خریدنے کی سکت نہیں ،کسان تنظیموں کے مطابق موجودہ صورتحال میں منجی کے کاشتکار کا کڑا امتحان شروع ہونے والا ہے جس کے بعد کسان چاول کی کاشت سے گریز کرے گا۔پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت ملک کی رائس ملز کے گوداموں میں 5 لاکھ ٹن چاول پڑا ہے جس کا کوئی خریدار نہیں ، ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین فیصل مقصود چیمہ کا کہنا ہے کہ 2 سال بعد چاول خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے ، حکومت فی الفور سٹاک پاسکو یا ٹی سی پی کے ذریعے خرید کر مالکان کو ریلیف دے اور انڈسٹری کو بیمار صنعت قرار دیتے ہوئے بینکوں کا مارک اپ فوراً ختم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…