منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

منگلا پاور اسٹیشن منصوبے سے پیداواری صلاحیت 1310میگاواٹ ہو جائے گی

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) منگلا ہائیڈل پاور اسٹیشن کی اپ گریڈیشن منصوبے سے اس کی پیداواری استعداد 1000میگاواٹ سے بڑھ کر 1310میگاواٹ ہو جائے گی۔ یہ بات چیئرمین واپڈا ظفر محمود کو منگلا ڈیم کے دورے پر ایک بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ چیئرمین نے ہائیڈل پاور اسٹیشن، ڈیم، سپل وے اور خالق آباد کے مقام پر ریزروائر رِم کا تفصیلی دورہ کیا۔ ممبر واپڈا بدرالمنیر مرتضیٰ، جنرل منیجر منگلا ڈیم غلام سرور میمن اور دیگر سینئر آفیسرز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ بجلی کی قلت پر قابو پانے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے نیشنل گرڈ میں کم لاگت پر بجلی شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ منگلا ہائیڈل پاور اسٹیشن کی اپ گریڈیشن منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ منگلا جھیل میں پانی کی آمد اور جھیل کی سطح کے پسِ منظر میں چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جھیل کی بھرائی کے لیے تمام فریقین کے مقرر کردہ طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔قبل ازیں جنرل منیجر منگلا ڈیم نے سیلاب کے دوران منگلا جھیل کی بھرائی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کے متعلق بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ریزڈ منگلا ڈیم کو گذشتہ سال اپنی انتہائی سطح یعنی 1242فٹ تک بھرا گیا تھا، جس سے آبپاشی کے لیے 30لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی اور 62کروڑ یونٹ اضافی کم لاگت پر بجلی پیدا ہوئی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ منگلا ہائیڈل پاور اسٹیشن سے مالی سال 15۔2014کے دوران 6ارب 49کروڑ 60لاکھ یونٹ، جبکہ 14۔2013ء4 میں 5ارب 87کروڑ 60لاکھ یونٹ بجلی پیدا ہوئی تھی۔ چیئرمین کو بتایا گیا کہ منگلا ہائیڈل پاور اسٹیشن کی اپ گریڈیشن منصوبے کو3 مراحل میں مکمل کیا جائے گا اور جس کے پی سی۔I کی منظور شدہ لاگت 52ارب 22کروڑ 43لاکھ روپے ہے۔ پراجیکٹ مکمل ہونے پر، منگلا ہائیڈل پاور اسٹیشن کی موجودہ پیداواری صلاحیت میں 310میگاواٹ کا اضافہ ہوگا اور ہر سال ایک ارب 63کروڑ 20لاکھ یونٹ اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے پہلے بڑے ا?بی منصوبے منگلا ڈیم اور اس کے سو سو میگاواٹ کے 4یونٹوں پر مشتمل پاور ہاؤس کی تکمیل 1967ء4 میں ہوئی تھی۔ بعد ازاں 1974ء4 میں 2اور 1981ء4 میں مزید 2یونٹوں کا اضافہ کیا گیا۔ 1994ء4 میں یونٹ نمبر9 اور 10کی تنصیب سے پاور ہاؤس اپنی انتہائی پیداواری صلاحیت یعنی 1000میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ 1967ء4 سے اب تک منگلا پاور ہاؤس نیشنل گرڈ کو 210ارب یونٹ سے زائد سستی بجلی مہیا کرچکا ہے۔ پاور ہاؤس کی مشینیں پرانی ہو جانے اور منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے بعد اضافی پانی کی دستیابی پر اب واپڈا مذکورہ پاور ہاؤس کو اپ گریڈ کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…