منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مری، نایاب پھل ایووکیڈو کے درختوں سے پھل کی پیداوار شروع

datetime 2  اگست‬‮  2015 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) ہل فروٹ ریسرچ اسٹیشن مری کے زیر انتظام لگائے گئے نایاب پھل ایووکیڈو کے درختوں سے پھل کی پیداوار شروع ہو گئی ،باغباں حضرات پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کر کے اپنی آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی بہتری میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر سکتے ہیں ۔ہل فروٹ ریسرچ اسٹیشن مری کے اسسٹنٹ ہارٹیکلچرسٹ محمد ضیغم نوازنے کہا کہ پھلوں کی برآمدات نے نہ صرف پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ صنعتِ باغبانی کو ایک نئی جہت بھی دی ہے، محکمہ زراعت پنجاب کا شعبہ تحقیقات اعلی نسل کے پھلوں کی کامیاب پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت مصرو ف عمل ہے ۔انہو ں نے بتایاکہ ہل فروٹ ریسرچ اسٹیشن کے زیر اہتمام تریٹ (چھرہ پانی ) کے مقام پر بیرون ملک سے درآمدہ نایاب قسم کے پھل ایووکیڈو کے 80پودے لگائے گئے ہیں جن میں سے 50پودے پیداواری صلاحیت کے حامل ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایووکیڈو پھل غذائی اور طبی لحاظ سے بہت اہم ہے اور پاکستان کے مخصوص علاقوں میں اس کی کاشت ممکن ہے۔انہوں نے بتایاکہ ایووکیڈو کا پھل دل کے امراض کے لیے نہایت مفید ہے، پاکستان میں ایووکیڈو کی تین اقسام کیلی فورنیا، لانگ، سیلون بلیو اور مری سلیکشن کاشت کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایووکیڈو کے پھل میں معدنیات، وٹامن، پروٹین اورچکنائی پائی جاتی ہے۔ اس کے پھل سے نکالا گیا تیل زیتون کے تیل سے مشابہت رکھتا ہے اور دل کے امراض کے لیے نہایت مفید ہے۔ ایووکیڈو کے ایک پودے سے 115 کلوگرام تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ کی نرسری میں تیار کرد ہ پودے باغبانوں کو فراہم بھی کئے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…