بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل ملزنے7اگست کوملک گیرہڑتال کی کال دے دی

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملوں کی7 اگست کو ہڑتال کی کال دینے پر وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے سینٹرل چیئرمین ایس ایم تنویر نے صحافیوں کو بتایا کہ جی آئی ڈی سی کے بعد الیکٹرسٹی سرچارج عائد ہونے سے ٹیکسٹائل ملوں کی پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ الیکٹرسٹی ٹیرف 32 فیصدکے اضافے سے14.38 روپے ہوگیا ہے۔حکومت کی سردمہری اور عدم دلچسپی اوربحرانی کیفیت سے دوچاراپٹما کے 100سے زائد ممبران نے جنرل باڈی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور جنرل باڈی نے متفقہ طور پر7 اگست سے ملک بھر میں قائم 450 سے زائد ٹیکسٹائل ملوں کو بندکرکے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ایس ایم تنویر نے بتایا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری گزشتہ 8 ماہ سے بدترین مشکلات کی زد میں ہے اور اپٹما کی اس ضمن میں وفاقی حکومت متعدد رابطوں کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری نے مایوس ہوکر ملیں بندکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زائد پیداواری لاگت اور زائد یوٹیلٹی ٹیرف کی وجہ سے پاکستانی انڈسٹری خطے کے حریف ممالک کے ساتھ عالمی مارکیٹوں میں مسابقت سے قاصر ہوگئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فائن کوالٹی کا یارن بنانے والی 40 سے زائد یونٹس تو صرف بھارت سے بے دریغ انداز میں درآمد ہونے والے یارن کی وجہ سے بند ہوچکی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مقامی صنعتوں کے تحفظ کے لیے بھارت سے یارن کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے۔ اپٹما سدرن ریجن کے چیئرمین طارق سعود نے بتایا کہ حکومت نے سرکلرڈیٹ کے لیے حاصل کردہ قرضوں اور قرضوں پر ادا کیے جانے والے سود کا بوجھ بھی انڈسٹری پر ڈال دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اپٹما غیرجانبدار بین الاقوامی ادارے ”گرزی“ کی خطے اورپاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے متعلق مرتب کردہ رپورٹ بھی وفاقی حکومت کو پیش کرچکی ہے جس میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشکلات کا کھل کر احاطہ کیا گیا ہے اور ان عوامل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری نہ صرف عالمی مارکیٹوں میں اپنے حریفوں سے مسابقت کے قابل نہیں رہی بلکہ اس شعبے کو بجلی وگیس کی فراہمی میں عدم تسلسل سمیت دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔طارق سعود نے بتایا کہ اپٹما کے تمام اراکین نے 7 اگست سے بطوراحتجاج ہڑتال پر جانے کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کو وفاقی وزیرخزانہ نے اگرچہ اجلاس طلب کیا ہے لیکن اس اجلاس میں اگر انڈسٹری اورقومی مفادمیں فوری فیصلے نہ کیے گئے ٹیکسٹائل سیکٹر کے تمام یونٹس کی تالا بندی شروع ہوجائے گی



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…