منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف سے قرض کی نئی قسط ملنے کا امکان قوی

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملازمین کی کارکردگی جانچنے اور ایف بی آر میں احتساب کا جامع و ٹھوس نظام متعارف کرانے کے لیے وضع کردہ اہم پرفارمنس اشاریے (کے پی آئیز) اور ملازمین کے کام کی نوعیت کے تعین کے بارے میں تیار کردہ جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی مانیٹرنگ کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر میں کے پی آئیز اور جے ڈیز کے نفاذ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کردی گئی ہے جبکہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز کو این ٹی این کا درجہ دینے کی شرط بھی بجٹ میں پوری کردی گئی ہے جس کے باعث توقع ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط بھی جاری ہوجائے گی جس کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) اور پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے درمیان دبئی میں مذاکرات جاری ہیں۔تاہم صحافیوں کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کی ہیومن ریسورس ونگ نے ادارے میں اہم پرفارمنس اشاریے(کے پی آئیز) اور جاب ڈسکرپشن متعارف کرانے کے لیے جنوری 2015 میں کام شروع کیا جس کے لیے متعدد اجلاس ہوئے جس کا بنیادی مقصد ایف بی آر کے اندر اپنے ملازمین و افسران کے لیے احتساب کا جامع و موثر نظام متعارف کرانا ہے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ پہلے مرحلے میں ان لینڈ ریونیو کے فیلڈ آفسز کے لیے کے پی آئیز ڈیولپ کیے گئے ہیں، یہ کے پی آئی 110 افسران کے گروپ نے تیار کیے ہیں اور اس کے لیے کراچی اور لاہور میں 2 ورکشاپس بھی منعقد ہوچکی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر کی منظوری سے یہ کے پی آئیز اور جاب ڈسکرپشن فوری طور پر نافذ کی گئی ہیں اور ایف بی آر کے افسران کی پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس کو بھی ان کے پی آئیز کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے، یہ کے پی آئیز اور جے ڈیز ملازمین کی ٹریکنگ کے لیے ایف بی آر کو ایکویپٹڈ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ ایف بی آر کے متعلقہ ونگ بطور خاص ٹیکس پیئرز آڈٹ، آئی آر آپریشنزاور ایچ آر ایم ونگ ان کے پی آئیز اور جے ڈیز پر عملدرآمد کی موثر مانیٹرنگ کریں گے۔چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میںچیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملازمین کی کارکردگی جانچنے اور ایف بی آر میں احتساب کا جامع و ٹھوس نظام متعارف کرانے کے لیے وضع کردہ اہم پرفارمنس اشاریے اور ملازمین کے کام کی نوعیت کے تعین کے بارے میں تیار کردہ جاب ڈسکرپشن کی مانیٹرنگ سخت کی جائے گی جس پر عملدرآمد کے لیے تمام فیلڈ آفسز کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں جس کے تحت افسران کے تقرر و تبادلے اور بنیادی تنخواہ کے برابر 100فیصد پرفارمنس الاو¿نس کی فراہمی کے بارے میں فیصلے اسی سسٹم کے تحت ہوں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…