منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چپس کی درآمد میں 2.5کروڑکی ڈیوٹی چوری بے نقاب

datetime 12  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) محکمہ کسٹمز کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی نے چپس (پرنگل اسنیک) کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر2 کروڑ44 لاکھ روپے سے زائد کی کسٹم ڈیوٹی و دیگر ٹیکسوں کی چوری بے نقاب کردی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ میسرز آئی بی ایل آپریشن پرائیوٹ لمیٹڈ نے کلیئرنگ ایجنٹ انوراصغربرادرزکے ساتھ مل کر2013 تا 2014کے دوران ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ اپریزمنٹ ایسٹ اوراپریزمٹ ویسٹ سے چپس (پرنگل اسنیک)کے 10 کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے داخل کی جانے والی گڈز ڈیکلریشن میں پی سی ٹی 2004.1000 ظاہرکی جس پر فری ٹریڈایگریمنٹ کی ناجائزسہولت لیتے ہوئے کنسائمنٹس کی کلیئرنس صفر فیصدکسٹمزڈیوٹی کے عوض کی گئی جبکہ چپس (پرنگل اسنیک) کے کنسائمنٹ کی کلیئرنس پی سی ٹی 1905.900 کے تحت عمل میں آتی ہے جس پر 20فیصدکسٹمزڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ درآمدکنندہ کی جانب سے پی سی ٹی کا غلط استعمال کیاگیاجس سے قومی خزانے کو مجموعی طورپر 2کروڑ44لاکھ 64 ہزار 542روپے کانقصان پہنچایا گیا۔واضح رہے کہ ڈائریکٹرپوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزگل رحمن کی جانب سے بے نقاب کی جانے والی ڈیوٹی و ٹیکسزکی چوری کے بعد متعدد درآمد کنندگان اورکسٹمزافسران میں بے چینی کی لہر پائی جارہی ہے اوردرآمدکنندگان ڈیوٹی وٹیکسزکی درست شرح کے مطابق ادائیگیاں کرنے پر مجبورہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے بے قاعدگی میں ملوث درآمد کنندہ آئی بی ایل آپریشنز سے 10 روز کے اندر جواب طلب کرلیا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…