پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

زرمبادلہ کے ذخائر کیوں گرے اور کشکول کیوں اٹھانا پڑا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 15  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بعض سیاستدان اپنی حکومت کے دوران اور خاص طور پر الیکشن سے قبل عوامی مقبولیت کی خاطرملکی خزانے کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر

دونوں ہاتھوں سے بے دریغ لٹاتے ہیں جسے عوام کو سالہا سال بحران کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے ملک کو غیر ضروری اخراجات روکنیکے فعال مکینزم کی ضرورت ہے۔ جب ملکی پیداوار، برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ نہیں ہو رہا ہو تو اخراجات کیوں بڑھائے جاتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں نے اقتصادی ماہرین اور عالمی اداروں کے منع کرنے کے باوجود ترقی دکھانے کے لئے بے پناہ اخراجات کئیاور درآمدات کی کھلی چھوٹ دی۔ 60 ارب ڈالر کی کل آمدنی کے مقابل 80 ارب ڈالر کی امپورٹس کی گئیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، زرمبادلہ کے ذخائر گر گئے اورکشکول اٹھانا پڑا۔ زرمبادلہ کی قلت کی وجہ سے حکومت نے درآمدات کو روکا ہوا ہے جس کی وجہ سے اشیاء کی شدید قلت واقع ہوگئی ہے اور اسمگلرز کی چاندی ہوگئی ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور اپنی چادر کے مطابق اخراجات کرنے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ جب تک بجلی، گیس، ناکام سرکاری اداروں کے نقصانات کا خاتمہ، امپورٹ سبسٹیٹیوشن کے ذریعے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہو گا پاکستان کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اورعوامی فلاح وبہبود پس پشت ہی رہے گی۔ پاکستان میں سرمائے اور کالے دھن کا رخ غیر پیداواری شعبوں کی طرف رکھا گیا ہے

جسکی وجہ سے صنعت میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جو پیداوار، برآمدات، محاصل اور بے روزگاری کی موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں عالمی معیار سے چار ہزارارب روپے کم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اب مغربی دنیا کی نظر میں پاکستان کی اہمیت کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے قرضوں میں ریلیف کے امکانات ختم ہو گئے ہیں جبکہ دوست ممالک بھی مسلسل امداد دے کر تھک گئے ہیں۔ پاکستان پر عائد قرضوں میں بڑا حصہ چینی قرضوں کا ہے جو ترقی پزیر ممالک کے قرضے ری سٹرکچر کرنا پسند نہیں کرتا اس لئے ہمیں اپنے وسائل کے اندر رہنا سیکھنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…