پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

زرمبادلہ کے ذخائر کیوں گرے اور کشکول کیوں اٹھانا پڑا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 15  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بعض سیاستدان اپنی حکومت کے دوران اور خاص طور پر الیکشن سے قبل عوامی مقبولیت کی خاطرملکی خزانے کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر

دونوں ہاتھوں سے بے دریغ لٹاتے ہیں جسے عوام کو سالہا سال بحران کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے ملک کو غیر ضروری اخراجات روکنیکے فعال مکینزم کی ضرورت ہے۔ جب ملکی پیداوار، برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ نہیں ہو رہا ہو تو اخراجات کیوں بڑھائے جاتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں نے اقتصادی ماہرین اور عالمی اداروں کے منع کرنے کے باوجود ترقی دکھانے کے لئے بے پناہ اخراجات کئیاور درآمدات کی کھلی چھوٹ دی۔ 60 ارب ڈالر کی کل آمدنی کے مقابل 80 ارب ڈالر کی امپورٹس کی گئیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، زرمبادلہ کے ذخائر گر گئے اورکشکول اٹھانا پڑا۔ زرمبادلہ کی قلت کی وجہ سے حکومت نے درآمدات کو روکا ہوا ہے جس کی وجہ سے اشیاء کی شدید قلت واقع ہوگئی ہے اور اسمگلرز کی چاندی ہوگئی ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور اپنی چادر کے مطابق اخراجات کرنے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ جب تک بجلی، گیس، ناکام سرکاری اداروں کے نقصانات کا خاتمہ، امپورٹ سبسٹیٹیوشن کے ذریعے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہو گا پاکستان کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اورعوامی فلاح وبہبود پس پشت ہی رہے گی۔ پاکستان میں سرمائے اور کالے دھن کا رخ غیر پیداواری شعبوں کی طرف رکھا گیا ہے

جسکی وجہ سے صنعت میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جو پیداوار، برآمدات، محاصل اور بے روزگاری کی موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں عالمی معیار سے چار ہزارارب روپے کم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اب مغربی دنیا کی نظر میں پاکستان کی اہمیت کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے قرضوں میں ریلیف کے امکانات ختم ہو گئے ہیں جبکہ دوست ممالک بھی مسلسل امداد دے کر تھک گئے ہیں۔ پاکستان پر عائد قرضوں میں بڑا حصہ چینی قرضوں کا ہے جو ترقی پزیر ممالک کے قرضے ری سٹرکچر کرنا پسند نہیں کرتا اس لئے ہمیں اپنے وسائل کے اندر رہنا سیکھنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…