پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں مساج سنٹر پر چھاپہ مارنے والوں پر مقدمہ درج کرنے کا حکم

datetime 13  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی عدالت نے مساج سنٹر پر جعلی صحافیوں کے چھاپے اور رقم بٹورنے کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے مساج سنٹر پر غیر قانونی چھاپے میں ملوث افراد کے خلاف پرچہ

درج کرنے کا حکم دیا ،عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ غیر قانونی چھاپے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر کے 10 دنوں میں رپورٹ پیش کی جائے، دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ اسلام آباد کو درہ آدم خیل نہ بنائیں غیر قانونی چھاپے میں مجسٹریٹ ملوث تھے توان کیخلاف بھی کارروئی کی جائے پولیس نے شفاف تحقیقات نہ کیں تو کیس ایف آئی اے، آئی ایس آئی یا نیب کو دیں گیدرخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرائیویٹ میڈیا پرسنز نے چھاپہ مار کر 5 لاکھ 75 ہزار روپے وصول کییچھاپہ مار ٹیم کے ہمراہ پولیس یا مجسٹریٹ موجود نہیں تھیواقعہ کی شکائت پر پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی، رقم واپسی کے تقاضا پر واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیاپرائیویٹ اشخاص کے چھاپہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج گزشتہ سماعت پر کمرہ عدالت میں چلائی گئی تھی، عدالت نے کہا کہ فوٹیج کے مطابق پرائیویٹ اشخاص نے چھاپہ مارا، دروازوں پر دستک دے کر لوگوں کو باہر نکالا اور مار پیٹ کی ان افراد نے وائرلیس تھام رکھے تھے اور کاؤنٹرز سے رقم بھی وصول کی عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز کو انکوائری کر کے ذمہ داران کے تعین کا حکم دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…