اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سابق آرمی چیف پر آرٹیکل 6 نہیں لگنا چاہیے،اگر لگا تو دنیا کو کیا دکھائیں گے کہ پاکستان کا آرمی چیف بھی ملک دشمن ہو سکتا ہے، وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ

datetime 19  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے کہا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو واپس پاکستان لانا چاہتے تھے۔ایک انٹرویوریاض پیرزادہ نے کہا کہ ایک ان کیمرا اجلاس میں جنرلز نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان لایا جائے

اور یہ تجویز جنرل (ر) فیض حمید نے دی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جنرل (ر) فیض نے تجویز دی تھی کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو مرکزی دھارے میں لایا جائے لیکن وہ بیک فائر کر گئے۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے اس پر بات کی اور کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بینظیر بھٹو سمیت ہمارے کافی معتبر رہنما شہید ہوئے ہیں۔وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ سابق آرمی چیف پر آرٹیکل 6 نہیں لگنا چاہیے کیوں کہ اگر یہ لگا تو دنیا کو کیا دکھائیں گے کہ پاکستان کا آرمی چیف بھی ملک دشمن ہو سکتا ہے۔خیال رہے کہ آئین کا آرٹیکل (6) سنگین غداری سے متعلق ہے۔ریاض پیرزادہ نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں ہوئے ریپ جیسے واقعات سے بچنے کے لیے عوام کو اپنی حفاظت خود کرنے کا مشورہ دے دیا۔ان سے سوال کیا گیا کہ ایف نائن پارک جیسے واقعات سے بچنے کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہیے؟اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے بچنے کے لیے تو سب سے پہلے ہمارے گھروں کی اچھی تربیت ضروری ہے، اچھی مائیں اچھی تربیت کریں، رات کو بچوں کے باہر جانے سے متعلق ہماری حدود ہیں۔انہوں نے کہاکہ لڑکیاں تو دور لڑکوں سے بھی ڈکیتیاں ہوجاتی ہیں، جرائم پیشہ لوگ تو پھر رہے ہوتے ہیں، کہیں پر درندگی تو کہیں پر غربت حاوی ہوجاتی ہے۔وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے لوگوں کو خود بچنا چاہیے،

جیسے ڈرائیونگ کے دوران کہتے ہیں کہ اپنی حفاظت خود ہی کرو، راہ چلتے ہوئے بھی اگر آپ غلط چلیں تو حادثات ہوتے ہیں۔انہوں نے بچوں کو بھی رات کے وقت باہر نہ جانے کا مشورہ دیا۔لاپتا افراد کے معاملے پر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ استعمال ہونے والے کچھ لوگوں کو استعمال کرنے والے ہی غائب کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں

یا دوسرے ملک چلے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے یہ لاپتا افراد ہیں، جب تک امن و امان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا لاپتا افراد کا معاملہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ لاپتاافراد کے معاملے میں دونوں طرف سے کچھ ہے، لاپتا افراد سے متعلق فہرست اب تھوڑی سے باقی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل میں پلانٹڈ لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…