اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کیا کر رہی ہے؟ لوگ بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں، سندھ ہائیکورٹ

datetime 29  جنوری‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) سندھ ہائیکورٹ نے گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل نہ کرنے کیخلاف درخواست پر متعلقہ افسران کو سیکریٹری کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل نہ کرنے

کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ مختلف محکموں میں تعینات کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر عدالت سندھ حکومت پر برہم ہوگئی۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کیا کر رہی ہے؟ کچھ لوگوں کو کنٹریکٹ پر سرکاری ملازمت دیتے ہیں اور کچھ کو مستقل کر دیتے ہیں۔ ڈائریکٹر کرکولیم نے بتایا کہ سابق ڈائریکٹر نے غلط بھرتیاں کی تھیں۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ وہ ڈائریکٹر تو اب اے سی والے کمرے میں آرام کر رہا ہوگا، بیچارے غریب ملازم رل رہے ہیں۔ یہ انصاف نہیں ہے اور ہم آپ کو ناانصافی کرنے بھی نہیں دیں گے۔ یہاں لوگ بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ سرکاری افسران اپنے رشتے داروں کو فیور دیتے ہیں اور غریب کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلیں۔ ہمیں بتائیں ان کو ریگیولر کیوں نہیں کیا جارہا؟ جو ریگیولر ملازمین رکھ رہے ہیں کیا وہ آسمان سے پریاں لے کر آئیں گے۔ یا تو سب کے لئے ایک پالیسی رکھیں کہ ہم صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں کریں گے۔ ان کو 3 سال کنٹریکٹ پر رکھا، عمر بڑھ گئی ان کی اب یہ نا یہاں کے رہے نا وہاں کے۔ عدالت نے ڈائریکٹر کو سیکریٹری کے پاس جاکر بیٹھ کر درخواستگزاروں کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔عدالت نے ریمارکس دیئے اگر ان کا معاملہ حل نہیں کر رہے تو ہم حکمنامہ جاری کریں گے، پھر سب کے لئے مسئلہ ہوجائے گا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت دوہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…