منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کاروباری افراد کی جان کئی شکنجوں میں،ملک بھر میں 4ٹیکسز دینا پڑ رہے ہیں

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) سروسز پر سیلز ٹیکس کا نفاذ اورصوبائی سطح پر ریونیو اتھارٹیز کے قیام سے خدمات فراہم کرنے والے کاروباری افراد کی جان بیک وقت کئی شکنجوں میں پھنس گئی۔ ملک گیر سطح پر کاروبار کرنے والے کو ڈبل نہیں 4جگہ ٹیکس دینا پڑے گا ، صوبائی ریونیو اتھارٹیز کا قیام مستقبل میں صوبوں کے درمیان تنازعات کا بڑا سبب بنے گا ،تفصیلات کے مطابق کمیشن ایجنٹس، گڈز ٹرانسپورٹرز، کسٹمز و کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرمینل پورٹ آپریٹرز، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور دیگر سروسز فراہم کرنے والے کاروباری حضرات کو ایک صوبے میں ٹیکس ادا کرنے کے بعد دوسرے صوبے کی جانب سے بھی نوٹسز کا اجراء شروع کردیا گیا ہے۔روزنامہ جنگ کے صحافی سہیل افضل کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں سروسز پر ٹیکس ادا کرنے والوں کو پنجاب ریونیو اتھارٹی اور کے پی کے ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ نوٹسز میں انہیں کہاگیا ہے کہ اگر انہوں نے یہاں کاروبار کرنا ہے تو انہیں ٹیکس ادا کرنا پڑے گا،دوسری صورت میں انہیں کاروبار بندکرنا پڑے گا۔کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے کام کررہے تھے، ان کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں جبکہ ان کے ذیلی ادارے یا فرنچائز ملک کے تمام بڑے شہروں میں ہیں، وہ اگر سندھ میں ٹیکس ادا کردیتے ہیں تو بقیہ صوبوں میں ڈبل ٹیکس کیسے دیں گے،جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کاروباری افراد کا کہنا تھا سندھ ریونیو بورڈ ان کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہا انھوں نے ہمیں پنجاب ریونیو اتھارٹی سے خود اپنا مسئلہ حل کرانے کو مشورہ دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…