اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سائبر قانون ، ترمیم کے بعد بھی حتمی مسودے میں سخت سزائیں برقرار

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں سائبر قانون کا نفاذ قریب تر ہے اور اس کے حتمی مسودے میں ترمیم کے بعد بھی سخت سزائیں برقرار رکھی گئیں ہیں۔قانون ماہرین ، سیکورٹی ایجنسیوں ، پی ٹی اے اور قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے تفصیلی جائزے کے بعد پارلیمانی کمیٹی کو اس قانون کا حتمی مسودہ مل گیا ہے۔ جنگ کے رپورٹر وسیم عباسی کے مطابق مذکورہ قانون کے حتمی مسودے کی ایک نقل دی نیوز کے پاس بھی موجود ہے ، سول سوسائٹی کی تنقید کے باوجوداس میں غیر قانونی طور پر ڈیٹا تک رسائی ، لوگوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کرنے(سائبر اسٹاکنگ)، بذریعہ انٹرنیٹ چکمہ دے کر ناجائز فائدہ اٹھانا(اسپوفنگ)، اور انٹرنیٹ پر بلادریغ ایک ہی پیغام کی کئی انٹرنیٹ صارفین پر بھرمار کرنے(اسپیمنگ)پر قید کی سزائیں برقرار رکھی گئیں ہیں۔ حتمی مسودے میں بھی سنگین نوعیت کے جرم کی صورت میں سیکورٹی ایجنسیوں کو عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ڈیٹا اور آلات ضبط کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس آپریشن کیلئے گزیٹڈ افسر کو بھیجا جائیگا۔ سائبر اسٹاکنگ پر2سال تک قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ مسودے کے مطابق سائبر اسٹاکنگ سے متاثرہ شخص کو اتھارٹی سے مخصوص معلومات تک رسائی ختم کرنے ، یا اس معلومات کو ختم کرنے یا انٹرنیٹ سے ہٹانے کی درخواست کا اختیار حاصل ہے۔ اسپیمنگ کے جرم پر 3 ماہ قیداور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ تاہم مسودہ قانون کے مطابق اسپیمنگ میں قانون کی جانیوالی مارکیٹنگ یا وہ معلومات شامل نہیں ہیں، جن کے حصول کو خود وصول کنندہ نے منقطع کرایا ہو۔ اسپوفنگ کے جرم میں 3 سال تک قید اور 5 لاکھ جرمانے کی سزا ہوگی۔ تاہم سول سوسائٹی اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں کو اس ضمن میں تھوڑی بہت رعایتیں دی گئیں ہیں۔ وہ کاروبار ی مراکز بمشول ہوٹلز اور کافی شاپس وغیرہ جوکہ اپنے صارفین کو مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں، انہیں اپنے صارفین کے ڈیٹا کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کی شرط مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ اس قانونی مسودے کے مطابق مجوزہ قانون کا اطلاق صرف سائبر کیفیز پر ہوگا ، جوکہ رقم کی ادائیگی کے عوض انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں، اور انہیں ایک مخصوص وقت تک اپنے صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس مسودے میں واضح کیا گیا ہےکہ وہ ڈیٹا جس تک عام شہریوں کو رسائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، اس کی رسائی جرم نہیں ہوگی۔ اس مسود ہ قانون کے تحت نابالغ مجرموں کی عمر کی حد 10سال سے بڑھاکر13برس کردی گئی ہے۔ مجوزہ قانون میں 21سا ئبر جرائم میں قید کی سزائیں رکھی گئیں ہیں۔ مجوزہ قانون سائبر قوانین کے متعلق عدالت کو ماہرانہ رائے فراہم کرنے کیلئے ایک آزاد فرانزک لیباٹری کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے ، جس کی انتظام کاری اور نگرانی کیلئے وفاقی حکومت ضابطے مرتب کریگی، جس میں افسران کی اہلیت اور تربیت، فرانزک لیباٹری کے ماہرین اور عملہ،فرانزک لیباٹری کے اختیارات ، تفویض شدہ امور و ذمہ داریاں ، اسکے ماہرین اور عملہ اور تفتیشی ایجنسی اور استغاثہ سے تبادلہ خیال کرنے کیلئے فرانزک لیباٹری کیلئے رہنما اصول وضع کرنا شامل ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…