جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

”را“ نے بلوچستان میں امن کوششوں کو ناکام بنانے کےلئے اپنے ایجنٹوں کی فنڈنگ میں اضافہ کر دیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی خفیہ ایجنسی ” را“ نے بلوچستان میں امن کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنے ایجنٹوں کی فنڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے ۔انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کے بھارتی خفیہ ادارے ” را“ کو پہلے ہی خصوصی فنڈ منظور کئے جا چکے ہیں ۔اس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنا ہے اور اب اس کو مزید فنڈز جاری کئے گئے ہیں تاکہ پرامن بلوچستان کے منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے ۔ ” را“ نے علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈز جاری کئے ہیں ۔اس کے علاوہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے اپنے ایجنٹ بھی فراہم کئے ہیں ۔سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسندوں کے درمیان اور ان کے باسسز کے درمیان پکڑے جانے والی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ ” را“ نے پرامن بلوچستان کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے مزید فنڈز بھی فراہم کئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسندوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تخریبی کارروائی کے لئے فون پر 1200 امریکی ڈالرز پیش کر رہا تھا ۔ اس سے قبل تخریب کاروں کو مختلف قسم کی تخریبی کارروائیوں اور بلوچستان میں معلومات اکٹھا کرنے کے لئے 400 سے 800 ڈالرز فراہم کئے جا رہے تھے ۔بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے لئے نئے ایجنٹوں کر ہائر کرنے کے علاوہ بلوچ علحیدگی پسند کمانڈروں کو بھی اضافی مالی مدد فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی لڑائی جاری رکھے سکیں ۔انہوں نے علیحدگی پسندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ موجودہ حکومت کے لئے ان کی لڑائی کی مالی مدد مسئلہ نہیں ہے ۔میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں گوادر کے قریب جیوانی ایئرپورٹ پر حملہ بلوچستان میں اس عمل کے بعد سب سے بڑی تخریبی کارروائی تھی جب اس سے قبل کئی بلوچ کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے ۔ جن میں برہمداد بگٹی ، حربی آر مری اور ڈاکٹر اللہ نذر گروپ کے کمانڈر شامل تھے ۔ حربی آر مری کے بی این اے گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر نے سیکورٹی فورسز کو بتایا ہے کہ انہیں قندھار ، ہلمند اور سپین بولدھک میں را کے ایجنٹوں نے تربیت دی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…