جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جھگڑا میری ذات کا نہیں ہے، ہمیں پتا چلا کرپشن تو ان کا ایشو ہی نہیں ہے، عمران خان

datetime 18  دسمبر‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک نصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جھگڑا میری ذات کا نہیں ہے، انہیں بہت سمجھایا تھا کہ شہبازشریف پر کرپشن کے کیسز ہیں، قمر جاوید باجوہ نے زور دیا کرپشن کیسز کو ختم کرو،معیشت بہتر کرو،ہمیں پتا چلا کہ کرپشن تو ان کا ایشو ہی نہیں ہے،

اگر ہمارے دور میں کرپشن ہوتی تو کیا صرف گھڑی کا کیس اٹھاتے؟ توشہ خانہ کوئی میوزیم نہیں اگر میں گھڑی نہ لیتا تو نیلامی میں کوئی اور خرید لیتا،90دنوں میں انتخابات نہ ہوئے تو سمجھ لیں کوئی بھی نیوٹرل نہیں ہے ،کرپشن اور مافیا کو ختم کئے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سی پی این ای کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو بتایا کہ 10،12بڑے کرپٹ لوگ اگر پکڑ میں آگئے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔جب جنرل فیض حمید کا ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے تبادلہ کیا گیا توپتہ چل گیا تھا حکومت گرانے کا پلان بن چکا۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن نہ کرائے تو پاکستان سیدھا سیدھا ڈیفالٹ کر جائے گا، اگر ملک ڈیفالٹ ہو گیا تو ملک بہت پیچھے چلا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ وفاق کریش ہوچکا ہے ،صوبوں کے لئے فنڈز موجود نہیں ہیں اس کے باوجود قربانیاں دے رہے ہیں۔ دو صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل اور تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کے بعد جب 66 فیصد پاکستان میں الیکشن ہوں گے، تو انہیں بھی عقل آجائے گی۔انہوںنے کہا کہ نئے آرمی چیف خود کہہ چکے ہیں کہ وہ نیوٹرل رہیں گے،3 ماہ میں الیکشن کروانا نیوٹرلز کا امتحان ہوگا،اگر فوج کے ادارے کو درست استعمال کرلیں تو ملک کو بحرانوں سے بچایا جاسکتا ہے۔نوے روز میں انتخابات کرانا آئین کی پابندی ہے ۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اگر ہمارے دور میں کرپشن ہوتی تو کیا صرف گھڑی کا کیس اٹھاتے؟ توشہ خانہ کوئی میوزیم نہیں اگر میں گھڑی نہ لیتا تو نیلامی میں کوئی اور خرید لیتا۔نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ90دنوں میں انتخابات نہ ہوئے تو سمجھ لیں کوئی بھی نیوٹرل نہیں ہے ۔کرپشن اور مافیا کو ختم کئے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر کے کئی لوگوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس طرح میںنے نو اپریل کو بے نقاب کیا تھا ۔مجھے سمجھ نہیں آیا کہ قمر جاوید باجوہ کو کیا مسئلہ ہو ا،مارشل لاء کے دو ادوار یا صرف میرے دور میں معیشت بہتری ہوئی ،کورونا وباء نہ آئی تو ملک مزید اس سے کہیں زیادہ ترقی کرچکا ہوتا جو چھوڑ کر گئے ۔عمران خان نے کہا کہ میرے زخم ٹھیک ہو رہے ہیں بختار اتر گیا ہے ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…