بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

خودساختہ جلاوطنی ختم، سلیمان شہباز وطن واپس پہنچ گئے وزیراعظم ہاؤس میں پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال

datetime 11  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز لندن میں 4 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے۔ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے ،3 روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو وطن واپسی پر انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا ۔

انہیں 13 دسمبر کو عدالت میں سرنڈر کرنے کا حکم دیدیا تھا۔سلیمان شہباز 2018 سے لندن میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھے جب عام انتخابات سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے تھے۔ پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلیمان شہباز کے گھر واپس آنے اور اپنے والد سے گلے ملنے کی ویڈیو شیئر کی گئی، ویڈیو میں وزیر اعظم شہباز شریف کو سلیمان شہباز کو ہار پہناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پارٹی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ’اللہ اکبر، الحمدللہ، سلیمان شریف واپس آگئے ہیں۔ٹرائل کورٹ نے رواں سال جولائی میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز اور ایک اور ملزم کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ایف آئی اے نے دسمبر 2021 میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر اسکینڈل کیس میں 16 ارب روپے کی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا تھا۔

ایف آئی اے کی جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے شہباز خاندان کے 28 بینامی اکاؤنٹس کا پتا لگایا تھا جن کے ذریعے 2008 سے 2018 کے دوران 16.3 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، عدالت میں جمع کرائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے 17 ہزار کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کی جانچ کی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ رقم ’چھپے ہوئے کھاتوں‘ میں رکھی گئی تھی اور ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو دی گئی تھی۔

سلیمان شہباز کا کہنا تھا کہ نئے سیاسی نظام کے لیے جعلی مقدمات بنا کر مجھے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ مجھ پر بنائے گئے جھوٹے مقدمات سیاسی مخالفت کی بد ترین مثال تھے، نیب کے سابق چیئرمین جاوید اقبال اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے تحت قومی احتساب بیورو کی طرف سے بنائے گئے کیسز میں کوئی سچائی نہیں تھی اور نہ ہی کرپشن کے شواہد ملے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…