جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

جنرل عاصم منیر کے خلاف ہوئی 4 سازشیں جو ناکام بنا دی گئیں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اینکر کامران شاہد نے نجی ٹی وی پر اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کو روکنے کے لیے سب سے پہلے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا پروپوزل آیا۔ یہ پروپوزل جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے نہیں تھا بلکہ یہ آئیڈیا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے دماغ کی اختراع تھا۔

لیکن یہ آئیڈیا بیچ رستے میں ہی ختم ہو گیا۔ عمران خان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے عاصم منیر کی تقرری نہ ہو سکے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عاصم منیر آرمی چیف بنیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی صورت حال ایسی ہو چکی تھی کہ مارشل لا لگنے کا بھی امکان تھا تاہم اس دوران ہونے والی اہم کور کمانڈرز میٹنگ میں اس خیال کی نفی کر دی گئی اور ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کا امکان بھی ختم ہو گیا۔اینکر نے مزید کہا کہ تیسری سازش یہ تھی کہ ایک اہم جنرل جو کہ اب ریٹائر ہو گئے ہیں، انہوں نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ عدالت میں اس فریق کی تو شنوائی ہو سکتی تھی جو براہ راست متاثر ہوا ہو لیکن آپ کسی اور کو آگے لاکر اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کریں تو عدالت اس معاملے پر بالکل سماعت نہ کرتی۔ فوج کے قوانین اور ضوابط کے پیش نظر ان معتبر فوجی جنرل نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ یعنی عاصم منیر کو روکنے کے لیے عدالت تک جانے کا منصوبہ تھا۔کامران شاہد نے چوتھی اور آخری سازش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا نام سامنے آیا۔ حکومت کو کہا گیا کہ ان کو آرمی چیف بنا دیا جائے تاہم اس آپشن پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنے اور شہباز شریف کے متفقہ فیصلے پر ڈٹ گئے اور جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…