پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ٹی ٹین بالرز کے لیے ایک چیلنجنگ فارمیٹ ہے‘ وہاب ریاض

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

ابوظہبی ( این این آئی) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ ٹی ٹین بالرز کے لیے ایک چیلنجنگ فارمیٹ ہے، اس میں بالرز کونئی مہارتیں سیکھنی پڑتی ہیں، جنہیں بروئے کار لانے سے میچ کے نتائج بدل سکتے ہیں کیونکہ ٹی ٹین بنیادی طور پر بیٹر ز کے لئے بہت ہی موزوں ہے جس میں انہیں کم وقت میں زیادہ رنزبنانے کے مواقع میسر ہیں۔

ابوظہبی ٹی ٹین کا چھٹا سیزن متحدہ عرب امارات میں کھیلا جا رہا ہے، نیو یارک سٹرائیکرز ٹیم پہلی بار ٹی ٹین میں شامل ہوئی ہے۔نیویارک سٹرائیکرز کے مایہ ناز پاکستانی بالر وہاب ریاض نے کہا کہ اس فارمیٹ میں بالر پر بہت دبا ہوتا ہے لیکن اچھی گیند بازی سے ٹیم کو فائدہ پہنچتا ہے، ٹی ٹین کا شیڈول اس قدر تیز ہوتا ہے کہ اس میں کھلاڑی کا فٹ رہنا ضروری ہے جس کے لئے تربیت اور نئی مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے جس کے بعد ہی وہ اچھی پرفارمنس دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فارمیٹ میں بالر کو صرف دو اوورز کرنا ہوتے ہیں جبکہ بیٹرز کو دس اوورز کھیلنا ہوتے ہیں جو ایک بیٹر کے لئے اہم ہیں جو ٹی 20 سے بھی زیادہ اہم ہے۔ٹیم کمبی نیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی بالر کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کھلاڑی دنیا کی مختلف لیگوں میں ایک ساتھ کھیل چکے ہوتے ہیں اس لئے مشترکہ حکمت عملی بنانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا اور تمام کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ مل کر مشترکہ لائحہ عمل کے مطابق میدان میں اترتے ہیں۔وہاب ریاض نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ ٹیم کو گزشتہ میچ کے نتائج جیت ہو یا ہار کو مدنظر رکھے بغیر کھیلنا چاہئے تاکہ بہتر کھیل پیش کیا جا سکے، ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے ہمیں اگلی گیم کے لئے ڈٹ کر تیاری کرنی چاہئے تاکہ اچھے نتائج آئیں۔خیال رہے کہ نیویارک سٹرائیکرز رواں سیزن میں شامل ہونے والی دو نیویارک سٹرائیکرز، موریس ویل سیمپ آرمی میں سے ایک ہے جن کا تعلق امریکا سے ہے، ابوظہبی ٹی ٹین کا فائنل چار دسمبر کو ابوظبی میں کھیلا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…