جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک اثرات ،ڈینگی وائرس سرد شہروں تک پھیلنے کا خدشہ

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)گلوبل وارمنگ کے سامنے آنے والے خوفناک اثرات، ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور مستقبل میں مون سون موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کے پیش نظر پاکستان کے ان علاقوں میں بھی ڈینگی وائرس پھیلنے کے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جن علاقوں میں یہ وائرس پہلے کبھی نہیں پھیلا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈینگی کے پھیلا پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پاکستان میں فیوچر اسپیٹیوٹیمپورل شفٹ کے عنوان سے ہونے والی نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے یہ وائرس اب تک محفوظ اونچائی والے علاقوں تک بھی پہنچ جائے گا۔ڈینگی ایک وائرل انفیکشن ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، عام طور پر یہ ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں سال کے بیشتر عرصے میں درجہ حرارت گرم رہتا ہے تاہم گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی)، ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)کے سائنسدانوں اور ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ ڈینگی کی منتقلی کے لیے موزوں ایام (ڈی ٹی ایس ڈی)مستقبل قریب میں پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیل جائیں گے۔محققین کے مطابق ہماری تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ڈی ٹی ایس ڈی پورے پاکستان میں پھیل جائیں گے۔

خاص طور پر ان علاقوں میں بھی جہاں ہم نے اس سے قبل ڈینگی انفیکشن نہیں دیکھا۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے تناظر میں محققین نے نوٹ کیا کہ 2020 کی دہائی میں کوٹلی، مظفرآباد اور دروش جیسے بلندی والے شہر، 2050 کی دہائی میں گڑھی دوپٹہ، کوئٹہ، ژوب اور 2080 کی دہائی میں چترال اور بونجی میں ڈی ٹی ایس ڈی میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ اسی دوران کراچی، اسلام آباد اور بالاکوٹ اکیسویں صدی کے دوران ڈینگی کے پھیلا ئوکے سنگین خطرات سے دوچار رہیں گے۔تحقیق میں کراچی، حیدر آباد، سیالکوٹ، جہلم، لاہور، اسلام آباد، بالاکوٹ، پشاور، کوہاٹ اور فیصل آباد کو ڈی ٹی ایس ڈی فریکوئنسی کے شکار 10 ہاٹ اسپاٹ شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ موجودہ ہاٹ اسپاٹ شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مستقبل میں ڈی ٹی ایس ڈی کم ہونے کا امکان ہے۔مون سون کے بعد اور پری مون سون سیزن کے دوران خطے میں عبوری تبدیلی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے رپورٹ میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وائرس کے خلاف موافقت اور تخفیف کے اقدامات کریں۔

جب کہ یہ مون سون سیزن صاف پانی کی وافر موجودگی کی وجہ سے ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار حالات فراہم کرتا ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے مطابق تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے نبرد آزما پاکستان کو وسط جون 2022 سے ڈینگی کیسز میں اضافے کا سامنا ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ بیشترعلاقوں میں پانی تاحال موجود ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…