اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک اثرات ،ڈینگی وائرس سرد شہروں تک پھیلنے کا خدشہ

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)گلوبل وارمنگ کے سامنے آنے والے خوفناک اثرات، ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور مستقبل میں مون سون موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کے پیش نظر پاکستان کے ان علاقوں میں بھی ڈینگی وائرس پھیلنے کے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جن علاقوں میں یہ وائرس پہلے کبھی نہیں پھیلا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈینگی کے پھیلا پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پاکستان میں فیوچر اسپیٹیوٹیمپورل شفٹ کے عنوان سے ہونے والی نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے یہ وائرس اب تک محفوظ اونچائی والے علاقوں تک بھی پہنچ جائے گا۔ڈینگی ایک وائرل انفیکشن ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، عام طور پر یہ ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں سال کے بیشتر عرصے میں درجہ حرارت گرم رہتا ہے تاہم گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی)، ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)کے سائنسدانوں اور ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ ڈینگی کی منتقلی کے لیے موزوں ایام (ڈی ٹی ایس ڈی)مستقبل قریب میں پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیل جائیں گے۔محققین کے مطابق ہماری تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ڈی ٹی ایس ڈی پورے پاکستان میں پھیل جائیں گے۔

خاص طور پر ان علاقوں میں بھی جہاں ہم نے اس سے قبل ڈینگی انفیکشن نہیں دیکھا۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے تناظر میں محققین نے نوٹ کیا کہ 2020 کی دہائی میں کوٹلی، مظفرآباد اور دروش جیسے بلندی والے شہر، 2050 کی دہائی میں گڑھی دوپٹہ، کوئٹہ، ژوب اور 2080 کی دہائی میں چترال اور بونجی میں ڈی ٹی ایس ڈی میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ اسی دوران کراچی، اسلام آباد اور بالاکوٹ اکیسویں صدی کے دوران ڈینگی کے پھیلا ئوکے سنگین خطرات سے دوچار رہیں گے۔تحقیق میں کراچی، حیدر آباد، سیالکوٹ، جہلم، لاہور، اسلام آباد، بالاکوٹ، پشاور، کوہاٹ اور فیصل آباد کو ڈی ٹی ایس ڈی فریکوئنسی کے شکار 10 ہاٹ اسپاٹ شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ موجودہ ہاٹ اسپاٹ شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مستقبل میں ڈی ٹی ایس ڈی کم ہونے کا امکان ہے۔مون سون کے بعد اور پری مون سون سیزن کے دوران خطے میں عبوری تبدیلی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے رپورٹ میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وائرس کے خلاف موافقت اور تخفیف کے اقدامات کریں۔

جب کہ یہ مون سون سیزن صاف پانی کی وافر موجودگی کی وجہ سے ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار حالات فراہم کرتا ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے مطابق تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے نبرد آزما پاکستان کو وسط جون 2022 سے ڈینگی کیسز میں اضافے کا سامنا ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ بیشترعلاقوں میں پانی تاحال موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…