پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

فیفا فٹبال ورلڈکپ ٹرافی کس سے بنی ہے اور اس کی قیمت کیا ہے؟ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )دنیا کی 32 ٹیموں کے درمیان فیفا فٹبال ورلڈکپ 2022 کی ٹرافی جیتنے کے لیے جنگ کا آغاز 20 نومبر سے ہورہا ہے۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق فیفاورلڈکپ کیلئے تیار کی گئی یہ ٹرافی 18 قیراط سونے سے تیار ہوئی ہے جس کا وزن 6 کلوگرام ہے

جبکہ ٹرافی کا 75فیصد حصہ سونے سے تیار کیا گیا ہے ۔ ٹرافی میں 2 انسان دنیا کو اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور جب شروع میں اسے تیار کیا گیا تو اس کی لاگت 50 ہزار ڈالرز کے قریب تھی مگر موجودہ دور میں یہ 2 کروڑ ڈالرز (4 ارب 44 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) مالیت کی ہے۔درحقیقت یہ دنیائے کھیل کی سب سے مہنگی ٹرافی ہے جس کی قیمت کا مقابلہ کوئی اور ٹرافی نہیں کرسکتی۔دوسری جانب قطر میں کھیلے جانے والے فٹ بال کے عالمی کپ میں مجموعی طور پر ایک ارب ڈالرز کی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی ہر ٹیم کو 2کروڑ 50لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم دی جائے گی جبکہ رنر اپ ٹیم 3کروڑ 20لاکھ اور فاتح ٹیم 4کروڑ 50لاکھ کی انعامی رقم اپنے گھر لے کر جائے گی۔ورلڈ کپ سے 6ماہ قبل جاری ہونے والی انعامی رقم کی تفصیلات کے مطابق گروپ اسٹیج میں باہر ہوجانے والی ٹیموں کو ایک کروڑ ڈالر جبکہ ناک آئوٹ مرحلے سے باہر ہونے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی رقم دی جائے گی۔ کوارٹر فائنل مرحلے سے باہر ہونے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 60لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی جائے گی۔

ٹورنامنٹ میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 2کروڑ 20لاکھ جبکہ تیسرے نمبر پر براجمان ہونے والی ٹیم کو 2کروڑ 60لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم ملے گی۔واضح رہے کہ فیفا کی طرف سے دی جانے والی انعامی رقم براہِ راست کھلاڑیوں کو نہیں دی جاتی

بلکہ اس رقم کی ادائیگی ممالک کی فٹبال فیڈریشنز کو کی جاتی ہے۔ فٹبال فیڈریشنز یہ رقم کس طرح خرچ کرتی ہیں فیفا اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرتا ہے۔ قطر میں کھیلے جانے والے فٹ بال کے عالمی کپ میں مجموعی طور پر ایک ارب ڈالرز کی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…