پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

احتجاجی مظاہرے ،پوراشہر پشاوربلاک ہوگیا،میلوں تک گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا کے لیڈی ہیلتھ ورکرز نے تنخواہوں کی بندش اوردیگر مراعات نہ ملنے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں، پشاور پریس کلب اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنہ دیا اور حکومت کے خلاف شدیدنعرہ بازی کی،وزیراطلاعات مشتاق غنی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔خیبرپختونخوا بھر کے16سو لیڈی ہیلتھ ورکروں نے تنخواوں کی عدم ادائیگی اور پنے مطالبات کی منظوری کے لیے جنا ح پار ک سے ریلی نکالی ۔پشاورپریس کلب پہنچنے پرکلب کے سامنے دھرنا بھی دیا ۔پریس کلب کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکروں شدید احتجاج کرتے ہوئے شیر شاہ سوری روڈ کوہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا ،مظاہرین نے حکومت حکومت اوروزیرصحت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2012سے الاﺅنس اوردیگر واجبات ادا نہیں کے جبکہ گزشتہ تین مہینوں سے تنخواہیں بھی نہیں ملی،مظاہرین کاکہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لیڈی ہیلتھ ورکروں کو مستقل کرنے کاحکم دیا تھا تاہم حکومت نے تاحال انکو سرکاری ملازمین تسلیم نہیں کیا۔مظاہرین نے تین گھنٹے دھرنا دینے کے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے پہنچ گئے اورصوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ کوہرقسم کی ٹریفک کےلئے بندکردیا۔شدید گرمی اور حبس کے باعث پانچ لیڈی ہیلتھ ورکرز بے ہو ش بھی ہوئی جنہیں طبعی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔لیڈی ہیلتھ ورکرز سے مذکرات کرنے کے لیے محکمہ صحت کے ایڈیشنل سیکرٹری آئے لیکن مظاہرین نے مذکرات کرنے سے انکار کردیا اور ایڈیشنل سیکرٹری کو چوڑیاں پیش کر دی اور کہا کے کے اگر عمران خان ناچ گانے کے لیے اسلام آباد کوتین مہینے یر غمال بنا سکتا ہے تو ہم بھی اپنے مطالبا ت کی منظوری کےلئے دھرنہ دے سکتے ہیں۔سات گھنٹے بعد صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی سے مذکرات کا میاب کے بعد مظاہرین منتشرہوگئے،مشتاق غنی کاکہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکز کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے ،انہوںنے یقین دہانی کروائی کہ لیڈی ہیلتھ ورکز کی ملاقات وزیراعلی پرویزخٹک سے بہت جلدکرائیں گے ،صوبائی حکومت عوام دوست حکومت ہے کسی کے ساتھ بھی زیادتی برداشت نہیں کرسکتے ،ان کاکہنا تھا کہ صوبے کے عوام اورملازمین کومکمل انصاف فراہم کریں گے۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی احتجاج کے بعد پورے شہر پشاورکی سڑکیں بلاک ہوگئی ،سڑکوں پر گاڑیوں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں،سڑکوں کی بندش کے خلاف شہریوں کوشدید مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…